دُمدار ستارے پر روبوٹ اتارنے کے لیے مقامات منتخب

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption فیلی روبوٹ کو کومٹ 67 کی سطح پر اتارنے کامنصوبہ ایک آرٹسٹ کی نظر سے

یورپی ممالک کے خلائی جہاز ’روزیٹا‘ سے منسلک ماہرین کا کہنا ہے کہ دمدار ستارے ’کومٹ 67 پی‘ پر ایک روبوٹ اتارنے کے لیے پانچ مقامات کا انتخاب کر لیا گیا ہے۔

مذکورہ خلائی مشن سے منسلک انجینیئرز کا کہنا ہے کہ انھوں نے ان مقامات کا انتخاب کرتے وقت اس بات کا خاص خیال رکھا کہ روبوٹ اتارنے میں کم سے کم خطرات ہوں۔

اس سے قبل دس ارب ٹن وزنی دمدار ستارے پر اترنے کی ایسی کوئی کوشش نہیں کی گئی ہے۔

روزیٹا مشن ’کومٹ 67‘ کی برفیلی سطح پر ایک روبوٹ اتارنے کے منصوبے پر عمل کرنے کی غرض سے پہلا روبوٹ اس سال گیارہ نومبر کو خلا میں روانہ کرے گا۔

یورپی خلائی ایجنسی کا کہنا ہے کہ ان کے پاس روبوٹ بھیجنے کا صرف ایک موقع ہوگا۔

خلائی مشن روزیٹا اور کومٹ 67 دونوں اس وقت زمین سے تقریباً چار ارب کلومیٹر دور ہیں، جس کی وجہ سے یہ ممکن نہیں کہ زمین سے خلائی مشن کے ساتھ رابطہ ہر وقت قائم رہے۔

اس لیے ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کا منصوبہ مکمل طور پر آٹو میٹک ہوگا اور ’فیلی‘ نامی روبوٹ کی حرکات و سکنات خلا میں بھیجے جانے سے کئی دن پہلے ہی اُس پر اپ لوڈ کر دی جائیں گی۔

ممکنہ پانچ مقامات کا انتخاب گذشتہ آخرِ ہفتہ فرانس میں یورپی خلائی ادارے کے ایک اجلاس میں میں کیا گیا جہاں ممکنہ مقامات کی ’ایک طویل فہرست‘ پیش کی گئی تھی۔

اس اجلاس میں یورپی خلائی ادارے کے علاوہ فرانس اور جرمنی کے قومی خلائی اداروں کے ماہرین نے بھی شرکت کی جو کہ ’فیلی‘ بھجوانے کی کوششوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔

اجلاس کے موقع پر آلات اور پرزوں کے ماہرین بھی موجود تھے جہنوں نے کپڑے دھونے والی مشین کے حجم کے برابر اپنے اپنے روبوٹ انتخاب کے لیے پیش کیے۔

اگر آپ تصور کریں کہ مذکورہ دمدار ستارے کی شکل ربڑ سے بنی ہوئی ایک بطخ کی مانند ہے تو تین مذکورہ روبوٹ اس کے سر پر ہوں گے جبکہ دیگر دو اس کے باقی جسم پر ہو سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دمدار ستارہ زمین پر جس مقام پر اتارا جائے گا اس کے لیے ضروری ہے کہ وہاں نوکیلی چٹانیں یا پتھر نہ ہوں۔

اس کے علاوہ ماہرین نے اس بات کو بھی مدنظر رکھا ہے کہ دُمدار ستارے کا زمین سے فاصلہ اور اس کی رفتار اتنی زیادہ نہ ہو کہ روزیٹا اس کی سطح پر ’فیلی‘ کو آرام سے اتار نہ سکے۔ اس دوران یہ بھی ضروری ہوگا کہ روبوٹ مسلسل زمین کے ساتھ رابطے میں رہے اور ان کئی گھنٹوں میں روبوٹ کے ساتھ ریڈیائی رابطہ قائم رہے جب دُمدار ستارہ زمین کی سطح پر اتر رہا ہو۔

اسی بارے میں