دنیا کے نایاب ترین پرندے کا نیا گھر

Image caption ۔۔ دنیا میں اس نسل کے صرف 25 پرندے باقی رہ گئے ہیں

مڈغاسکر کی باسی سربطخ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ دنیا کا نایاب ترین پرندہ ہے۔ لیکن خدشہ ہے کہ اگر اس کی افزائش کے لیے نیا علاقہ نہ ڈھونڈا گیا تو اس کی نسل معدوم ہو جائے گی۔

یہ بات ایک نئی تحقیق سے سامنے آئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اس پرندے کے 96 فیصد چوزے دو سے تین ہفتے کی عمر میں ہلاک ہو جاتے ہیں۔

جنگلی حیات کے تحفظ کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ انسانی سرگرمیوں نے اس پرندے کو ایک دلدلی علاقے تک محدود کر دیا ہے لیکن وہاں بھی اس کے لیے کافی خوراک موجود نہیں ہے۔

یہ تحقیق جریدے برڈ کنزرویشن انٹرنیشنل میں شائع ہوئی ہے۔

تحقیق کرنے والے ادارے ڈبلیو ڈبلیو ٹی نے اندازہ لگایا ہے کہ اس نسل کے صرف 25 پرندے باقی بچے ہیں۔

مذکورہ بالا انسانی سرگرمیوں میں جنگلات کا خاتمہ، زراعت اور ماہی گیری شامل ہیں اور انھوں نے قدرتی ماحول کو اس قدر تباہ کر دیا ہے کہ سربطخ اب شمال مشرقی مڈغاسکر کے ایک چھوٹے سے دلدلی علاقے تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔

2006 میں اس علاقے میں اس پرندے کی دریافت کے بعد ڈبلیو ڈبلیو ٹی اور اس کے معاونین نے ان کی نسل کی افزائش کا پروگرام شروع کیا تھا۔

اس ادارے کے ڈاکٹر جیف ہلٹن نے بی بی سی کو بتایا کہ پرندوں کی اس قدر چھوٹی آبادی پر نگاہ رکھنا بہت آسان ثابت ہوا: ’یہاں دس یا 11 مادائیں تھی اور ہم دیکھ سکتے تھے کہ ان میں اکثر انڈے دے رہی تھیں، اور ان سے چوزے بھی نکل رہے تھے۔

لیکن مسئلہ یہ تھا کہ دو تین ہفتے بعد چوزے غائب ہو جاتے تھے۔

سائنس دانوں نے پتہ چلایا کہ چوزے خوراک کی کمی کی وجہ سے ہلاک ہو رہے ہیں۔ یہ بطخیں جھیلوں کی تہہ سے خوراک حاصل کرتی ہیں، لیکن اس علاقے میں پائی جانے والی جھیلیں ان کے لیے بہت گہری تھیں۔

ڈبلیو ڈبلیو ٹی کے سینیئر ریسرچ آفیسر ڈاکٹر اینڈریو بیمفورڈ نے کہا: ’مڈغاسکر کی سربطخ نے اپنے لیے جو آخری ٹھکانہ ڈھونڈا وہ ان کی ضروریات کے لیے موزوں نہیں تھا۔‘

تاہم سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اگر اس پرندے کو کوئی نیا گھر تلاش کر کے دے دیا جائے تو یہ دوبارہ پھل پھول سکتا ہے۔

ڈاکٹر ہلٹن نے کہا: ’ہم نے حال ہی میں سربطخ کے لیے ایک جھیل ڈھونڈی ہے جو ہمارے خیال میں ان کی نسل کی افزائش کے لیے معاون ثابت ہو سکتی ہے۔

’بنیادی بات یہ ہے کہ ہمیں ان کی بحالی اور آبادی کاری میں مقامی آبادی کو بھی شامل کرنا پڑے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں جھیل کو بھی بحال کرنا پڑے گا تاکہ اس کے آپس پاس رہنے والے لوگ اس کا بہتر استعمال کر سکیں۔‘

اسی بارے میں