ذہن صحت مند کھانے کی جانب راغب ہو سکتا ہے

تصویر کے کاپی رائٹ

ایک نئی امریکی تحقیق کے مطابق ایک ایسی خوراک کے ذریعے جو آپ کو بھوکوں نہ مارے، آپ اپنے دماغ کو غیر صحت مندانہ خوراک کی بجائے صحت مندانہ خوراک کی جانب راغب کر سکتے ہیں۔

ٹفٹس یونیورسٹی کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ذہن کی تربیت کے ذریعے کسی خاص کھانے کی پختہ عادت کے باوجود انسان اپنی عادتیں تبدیل کر سکتا ہے اور نئی قسم کی خوراک کھانا شروع کر سکتا ہے۔

مذکورہ سائنسدانوں نے مرد اور خواتین کے ایک چھوٹے گروہ کے دماغوں کے سکین کر کے اس مقام کی نشاندہی کی ہے جہاں سے دماغ آپ کو بتاتا ہے کہ آپ کو صرف فلاں چیز ہی کھانی ہے۔

اس تحقیق کے نتائج میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ دماغ میں اس مقام کی تربیت سے انسان میں کم کیلوری والے کھانے کی خواہش میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

تحقیق کرنے والے سائنسدانوں کی ٹیم کی سربراہ اور بوسٹن یونیورسٹی سے منسلک انسانی رویوں کی ماہر پروفیسر سُوزن رابرٹس کا کہنا تھا ’ہم اپنی زندگی کے آغاز سے ہی چپس سے محبت اور چوکر والے آٹے سے نفرت کرنا شروع نہیں کر دیتے بلکہ ہمارا ذہن وقت کے ساتھ ساتھ سستے اور مضر صحت کھانوں کا عادی ہوتا ہے۔‘

سائنسدان یہ بات جانتے ہیں کہ جب لوگ غیر صحت مندانہ خوراک کے عادی ہو جاتے ہیں تو ان کی عادتیں تبدیل کر کے انھیں اچھی خوراک کی عادت ڈالنا آسان نہیں رہتا، تاہم پروفیسر سُوزن رابرٹس کہتی ہیں کہ ان کی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ دماغ صحت مندانہ کھانوں کی عادت اپنا سکتا ہے۔

تحقیق میں سائنسدانوں نے 13 فربہ اور کھانے کے شوقین مرد اور خواتین کے دماغوں کے اس حصے کا مطالعہ کیا جہاں سے انسان میں انعام کی خواہش اور کسی پختہ عادت کو پورا کرنے کے جذبات کنٹرول ہوتے ہیں۔

تحقیق کے دوران گروہ میں شامل افراد کو پروٹین اور فائبر سے بھری مگر نشاستوں سے پاک ایسی خوراک دی گئی جس سے ان کے جسم کی ضرورت تو پوری ہوتی رہی لیکن انھیں بھوک کا احساس نہیں ہونے دیا گیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب آپ کو سخت بھوک لگنا شروع ہو جاتی ہے تو آپ فوراً غیر صحت مندانہ کھانوں کی طرف لپک پڑتے ہیں۔

چھ ماہ کے بعد جب ان افراد کے دماغوں کے ایم آر آئی نمونے حاصل کیے گئے تو معلوم ہوا کہ جو افراد نئی خوراک کھا رہے تھے ان کے دماغ کے اس حصے میں تبدیلیاں آنا شروع ہو گئیں جہاں پر انسان کو انعام ملنے کی خوشی کا احساس ہوتا ہے۔

ان تبدیلیوں کے بعد جب مذکورہ افراد کو کھانے کی مختلف چیزوں کی تصاویر دکھائی گئیں تو دیکھا گیا کہ کم کیلوری والے صحت مندانہ کھانوں کو دیکھ کر ان کے دماغوں میں زیادہ ہلچل ہوئی۔

تحقیق کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انسان کو صحتمندانہ خوراک سے بھی خوشی کا احساس دلایا جا سکتا ہے۔

تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ جب مذکورہ افراد کو غیر صحت مندانہ کھانوں کی تصاویر دکھائی گئیں تو ان کے دماغوں میں زیادہ ہلچل نہیں دیکھی گئی۔

پروفیسر سُوزن رابرٹس کا کہنا تھا کہ اگرچہ ان کی تحقیق کے نتائج حوصلہ افزا ہیں تاہم اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ آئندہ تحقیق میں زیادہ لوگوں کو شامل کیا جانا چاہیے اور ان کے دماغوں کا مطالعہ طویل عرصے تک کیا جانا چاہیے۔

اسی بارے میں