زبانوں کی قاتل معاشی ترقی

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption معیشت ترقی کرتی ہے تو ایک زبان سیاست اور تعلیمی میدانوں میں حاوی ہو جاتی ہے

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ معاشی ترقی کی وجہ سے دنیا میں کچھ زبانیں دم توڑ رہی ہیں۔

تحقیق کے مطابق اس خطرے کا سب سے زیادہ سامنا شمالی امریکہ، یورپ اور آسٹریلیا جیسی دنیا کی ترقی یافتہ ترین اقوام میں بولے جانے والی اقلیتی زبانوں کو ہے۔

رائل سوسائٹی میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں کہا گیا ہے کہ متروک ہوتی ہوئی زبانوں کو بچانے کی کوششوں کا مرکز ترقی یافتہ ممالک ہونا چاہییں۔

تحقیق کرنے والے سائنسدانوں کی ٹیم کی سربراہ اور برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی سے منسلک ڈاکٹر تاتسویا امانو کا کہنا ہے کہ ’ہم دنیا کی کئی زبانوں کو بڑی تیزی کھو رہے ہیں جو کہ نہایت تشویشناک بات ہے۔

’اس تحقیق کے ذریعے ہم جاننا چاہتے تھے کہ دنیا کےمختلف علاقوں میں زبانوں کے ختم ہونے کے اسباب کیا ہو سکتے ہیں۔‘

غائب ہوتی ہوئی آوازیں

ڈاکٹر تاتسویا امانو نے کہا کہ دنیا بھر میں تقریباً 25 فیصد زبانیں ایسی ہیں جنھیں متروک ہو جانے کے خطرے کا سامنا ہے۔

تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ کوئی ملک معاشی طور پر جتنا زیادہ کامیاب ہوتا ہے وہاں اتنی ہی زیادہ تیزی سے زبانیں ختم ہوتی جاتی ہیں۔ شمالی امریکہ میں ’اپرتنانا‘ جیسی زبانیں بولنے والوں کی تعداد 25 افراد تک گِر چکی ہے جبکہ یورپ میں ’اُمی سمین سکنیڈے نیوین‘ اور قدیم فرانس میں بولی جانی والی زبان ’اوورگناٹن‘ بھی تیزی سے ختم ہو رہی ہیں۔

ڈاکٹر تاتسویا امانو کا کہنا ہے کہ ’جب معیشت ترقی کرتی ہے تو ہوتا یہ ہے کہ صرف ایک زبان اس قوم کی سیاست اور تعلیمی میدانوں میں حاوی ہو جاتی ہے۔ ’یوں لوگ مجبور ہو جاتے کہ وہ یا تو حاوی ہو جانے والی زبان بولنا شروع کریں اور یا خود معاشی اور سیاسی لحاظ سے متروک ہو جائیں۔‘

تحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ ترقی یافتہ ترین ممالک کے علاوہ ہمالیہ کے پہاڑی سلسلوں میں بولی جاننے والی بولیاں بھی ختم ہوتی جا رہی ہیں۔

اسی بارے میں