کیسی ہے ایپل کی سمارٹ واچ

فیشن کے نظریہ سے دیکھا جائے تو گھڑی کا بیرونی ڈیزائن عام سا ہے، نہ بہت زیادہ سٹائلش اور نہ ہی بہت سادہ

،تصویر کا ذریعہapple

،تصویر کا کیپشن

فیشن کے نظریہ سے دیکھا جائے تو گھڑی کا بیرونی ڈیزائن عام سا ہے، نہ بہت زیادہ سٹائلش اور نہ ہی بہت سادہ

ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ زیادہ اہم گیجٹس کی معلومات کو ان کی رونمائی تک صیغۂ راز میں رکھا جا سکے لیکن امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل اپنی نئی تخلیق اپیل واچ پر سے آخر تک پردہ نہیں اٹھنے دیا۔

ایپل کے چیف ایگزیکٹیو ٹم کک کے اعلان تک اس سمارٹ واچ کے متعلق لاعلمی برقرار رہی۔

انھوں نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ گھڑی کی چھوٹی سی سکرین پر کئي ایپس کا مظاہرہ کیا جن میں نقشے اور ورزش سے متعلق ایپس واقعی اہم نظر آئیں، جبکہ ان میں ایسی ایپس بھی ہیں جن سے آپ اپنی دل کی دھڑکن اپنے چاہنے والے کو پہنچا سکتے ہیں۔

لانچ ہونے کے بعد سے ہی ایپل واچ بحث کا مرکز بنی ہوئی ہے۔

اس کی خامیوں اور خوبیوں کا تفصیلی اندازہ تو اس کے استعمال کے بعد ہی سامنے آئے گا، لیکن ابھی ایک نظر ایپل کی اس نئی پیشکش پر ظاہر کیے جانے والے رد عمل پر ڈالتے ہیں۔

ووگ

فیشن کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو گھڑی کا بیرونی ڈیزائن عام ہے۔ یہ نہ بہت زیادہ سٹائلش ہے اور نہ ہی بہت سادہ۔ میرے خیال میں اسے جمالیات پرستوں سے زیادہ ٹیکنالوجی سے محبت کرنے زیادہ پسند کریں گے۔

گزموڈو

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن

ماہرین کے مطابق اس کی افادیت اس کے استعمال کی صلاحیت میں مضمر ہے

ایپل واچ کی اہم ترین بات یہ ہے کہ آپ اسے کس مہارت کے ساتھ چلاتے ہیں کیونکہ اس میں بڑی سکرین پر موجود مختلف قسم کے ٹچ بٹنوں کی بجائے ڈیجیٹل کراؤن یا چابی دینے والا بٹن ہے جو ہم عام گھڑیوں میں وقت کو درست کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

وائرڈ

اس گھڑی کی ایک دلچسپ خصوصیت اس میں موجود میپ ایپ ہے جس میں رہنمائی کے علاوہ لمس کے ارتعاش پر مبنی نظام بھی ہے۔ اس ایپ کے ذریعے آپ اپنے سفر کا نقشہ تیار کر سکتے ہیں اور یہ لمس کے ارتعاش کے ذریعے آپ کی رہنمائی کرتا ہے۔

دا ورج

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشن

ایپل نے اس گھڑی کی رونمائی کے موقعے پر اس میں موجود ورزش کی ایپس پر زیادہ زور دیا

ایپل نے واچ سے متعلق کئی ضروری باتوں پر روشنی نہیں ڈالی ہے جیسے سکرین ریزولیوشن، پروسیسنگ کی رفتار اور سب سے اہم بات، بیٹری لائف ۔۔۔ یہ بات بھی کھلتی ہے گھڑی کی سکرین ہمیشہ روشن نہیں رہتی اور وہ اسی وقت حرکت میں آتی ہے جب آپ اپنی کلائی گھماتے ہیں یا اسے چھوتے ہیں۔

فنانشل ٹائمز

اتنی اہم مصنوعات کی خصوصیات کو اس قدر تیزی کے ساتھ ناظرین کو دکھانے اور پھر اس کے بعد راک بینڈ کے پروگرام سے انھیں بے حواس کر دینے کے پس پشت پتہ نہیں کیا نفسیات پنہاں ہے۔ شاید وہ ہمیں ہتھیار ڈال دینے پر مجبور کرنے کے لیے ہیں۔

وال سٹریٹ جرنل

کوئی مجھے بتائے کہ میں اپنی دل کی دھڑکن کو کسی کو کیوں سناؤں گا؟ شاید اپنے ڈاکٹر یا نرس کو؟

ٹیک کرنچ

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشن

لانچ کے موقعے پر ٹیکنالوجی کے ماہرین کو مدعو کیا گیا تھا

یہ شاندار نظر آتی ہے۔ اسی قسم کی دوسری مصنوعات سے بدرجہا بہتر۔ اس میں شک نہیں ہے کہ بے شمار کمپنیاں پہنے جانے والے اینڈروئڈ گیجٹ بنانے کے لیے پر تول رہی ہیں۔ اب انھیں ایپل واچ سے بھی مقابلہ کرنا پڑے گا۔

واشنگٹن پوسٹ

کیا ہمیں واقعی اس کی ضرورت ہے؟ اگر آپ کو وقت دیکھنا ہے تو آپ کے پاس موبائل فون تو ہے ہی۔

اس کے علاوہ سماجی رابطے کی سائٹوں پر بھی اس کے بارے میں بہت سی باتیں ہو رہی ہیں۔