’اوزون کی تہہ میں بحالی کے آثار‘

تصویر کے کاپی رائٹ NASA
Image caption اوزون کی تہہ میں براعظم انٹار کٹیکا کے عین اوپر بننے والا سوراخ بھی ہر سال بڑھنا رک گیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ایک مطالعے کے مطابق انسانوں میں جلد کے کینسر کا سبب بننے والی بالائے بنفشی (الٹرا وائلٹ) شعاعوں سے محفوظ رکھنے والی اوزون کی تہہ میں بحالی کے آثار دکھائی دیے ہیں۔

اس سے پہلے گذشتہ کئی برس سے یہ تہہ کمزور پڑ رہی تھی تاہم زمین کے لیے ڈھال کا کام کرنے والی اوزون کی تہہ اب دوبارہ موٹی ہو رہی ہے۔

اوزون کی تہہ میں براعظم انٹار کٹیکا کے عین اوپر بننے والا سوراخ کا پھیلاؤ بھی رک گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اب بھی اس سوراخ کے بند ہونے کا عمل شروع ہونے میں ایک دہائی لگے گی۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اوزون کی تہہ کی یہ بحالی سراسر اس سیاسی عزم کا نتیجہ ہے جس کا مقصد انسان کی پیدا کردہ سی ایف سی گیسوں میں کمی لانا تھا جو اوزون کو تباہ کر رہی تھیں۔

یہ مطالعہ موسمیات کے عالمی ادارے اور اقوامِ متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کے محققین کی جانب سے شائع کیا گیا ہے۔

موسمیات کے عالمی ادارے کے سیکرٹری جنرل مچل جیراڈ کا کہنا ہے کہ ’اوزون کی تہہ کے بارے میں بین الاقوامی اقدامات بحالیِ ماحولیات کی کامیابی کا مظہر ہیں۔ اس بات سے ہمیں حوصلہ ملے گا کہ ہم ماحولیات کے لیے اس سے بھی بڑے مسائل کے لیے عجلت اور اتحاد کا مظاہرہ کریں۔‘

امریکی خلائی ادارے ناسا کے رکن ڈاکٹر کین جکس نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ ’انسانوں نے ماحول کو صنعتی انقلاب سے پہلے کے حالات کی طرف واپس لے جانے کے لیے درست اقدامات کیے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ NASA
Image caption رپورٹ کے مطابق اب بھی اس سوراخ کے بند ہونے کا عمل شروع ہونے میں ایک دہائی لگے گی

سائنس دان ابھی پُریقین نہیں ہیں کہ اوزون کی تہہ کا سوراخ خود بخود بھرنے لگے گا۔ برطانوی انٹارکٹک سروے کے پروفیسر ڈیوڈ ویگن کا کہنا ہے کہ ان کی تنظیم موسمیات کے عالمی ادارے کے نتائج کا جائزہ لے گی۔

انھوں نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ ’ہمیں ذرا محتاط ہونا پڑے گا لیکن اگر واقعی ایسا ہے تو یہ اچھی خبر ہے۔

’انٹارکٹیکا سے حاصل ہونے والے اعداد وشمار کی جانچ میں کچھ ہفتے لگیں گے لیکن ہم امید کرتے ہیں کہ وہ اس مطالعے کی نتائج کی تصدیق کریں گے۔ اگر ایسا ہی ہوتا ہے تو یہ ماحولیات کے لیے بین الاقوامی معاہدے کی اہمیت اجاگر کرے گا۔ ‘

کاربن ڈائی آکسائیڈ اب بھی خطرناک ترین

اوزون کی تہہ کی بحالی کی خبر کے ساتھ ہی ایک بری خبر یہ ہے کہ ماحولیات کو نقصان پہنچانے والی زہریلی گیسوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔

سنہ 1987 میں اوزون کی تہہ کو نقصان پہنچانے والی گیسوں پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ ان گیسوں میں کلورو فلورو کاربن (CFCs) شامل ہے جو کبھی ریفریجریٹروں اور سپرے کینز میں استعمال کی جاتی تھی۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق اس سے سنہ 2030 تک 20 لاکھ افراد کو جلد کے کینسر سے بچایا جا سکے گا۔

ادارے کے مطابق اس کی مدد سے جنگلی حیات، فصلوں اور انسانوں کی آنکھوں اور معدافعتی نظام کو ممکنہ نقصان سے بچایا جا سکتا ہے۔

اسی بارے میں