موٹاپا: انسانوں نے چیونٹیوں کو شکست دے دی

تصویر کے کاپی رائٹ thinkstock
Image caption برطانوی تحقیق دان سی بی ولیمز کے مطابق دنیا میں اس وقت زندہ کیڑے مکوڑوں کی تعداد دس کروڑ کھرب کے برابر ہے۔

اگر دنیا بھر کی تمام چونٹیوں کا وزن کیا جائے تو یہ دنیا کے تمام انسانوں کے وزن کے برابر ہو گا۔ جی ہاں آپ نے بالکل درست پڑھا، یہ دلچسپ انکشاف بی بی سی فور کے وائلڈ لائف کے میزبان کرس پاخم نے اپنے پروگرام ’چیونٹی، ایک حیرت انگیز جانور‘ میں کیا۔

لیکن یہ حیرت انگیز انکشاف حقیقت سے کتنا قریب ہے؟

دنیا بھر کی چیونٹیوں اور انسانوں کا وزن ایک برابر ہونے کا دعویٰ سب سے پہلے ہاورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر ایڈورڈ ولسن اور جرمن ماہرِ حیاتیات برٹ ہولڈوبلر نے 1994 میں اپنی کتاب ’چیونٹیوں تک پہنچنے کا سفر‘ میں کیا۔

انھوں نے اپنا دعویٰ برطانوی تحقیق دان سی بی ولیمز کی اس تحقیق کی بنیاد پر کیا جس کے مطابق دنیا میں اس وقت زندہ کیڑے مکوڑوں کی تعداد دس کروڑ کھرب کے برابر ہے۔

پروفیسر ایڈورڈ ولسن اور برٹ ہولڈوبلر اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ’ان کیڑے مکوڑوں میں اگر چیونٹیوں کی تعداد ایک فیصد بھی ہو تو ان کی کل آبادی دس ہزار کروڑ بنتی ہے‘۔

یہ مزید لکھتے ہیں کہ ’اوسطً ایک چیونٹی کا وزن ایک اور پانچ ملی گرام کے درمیان ہوتا ہے اور اگر تمام چیونٹیوں کا وزن کر لیا جائے تو یہ تمام انسانوں کے وزن کے برابر ہو گا ‘۔

چیونٹیوں کا وزن کیسے کیا جائے؟

یونیورسٹی آف سسکس کے پروفیسر فرانسس ریٹنیکس کہتے ہیں کہ یہ تو بڑا آسان کام ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’وزن کرنے والا الیکٹرونک آلہ خریدیں اور چیونٹی کو فریزر میں رکھ کر منجمد کر دیں تا کہ وہ وزن کرنے والی مشین سے بھاگ نہ سکے‘۔

اور اگر یہ طریقہ آپ کو پسند نہیں تو تحقیق دان مائک فوکس کہتے ہیں کہ ’سو چیونٹیوں کو ایک چھوٹی سی ٹیوب میں بند کر لیں، پھر ان کا وزن کر کے اس میں سے ٹیوب کا وزن منفی کر لیں‘۔

لیکن کسی کو یہ نہیں پتا کہ دنیا میں چیونٹیوں کی اصل تعداد کتنی ہے؟ بی بی سی فور کی ڈاکومینٹری کا دعویٰ ہے کہ اگر چیونٹیوں کی تعداد دس کروڑ کھرب نہیں تو سو کھرب ضرور ہے اور ان کا وزن انسانوں کے وزن کے برابر ہے۔

پروفیسر ایڈورڈ ولسن اور برٹ ہولڈوبلر کے دعویٰ کا جائزہ لیا جائے تو وہ صحیح نہیں لگتا۔ دنیا میں تقریباً سات ارب انسان رہتے ہیں جن کا وزن ساڑھے چار سو ارب کلو بنتا ہے۔ اگر یہ تصور کر لیا جائے کہ چیونٹیوں کی تعداد دس ہزار کھرب ہے اور ان کا اوسط وزن چار ملی گرام ہے تو دنیا بھر کی تمام چیونٹیوں کا وزن صرف چالیس ارب کلو بنتا ہے جو کہ انسانوں کے کل وزن سے کافی کم ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ thinkstock
Image caption پروفیسر ولسن اور ہولڈوبلر اوسطً چیونٹی کا وزن ایک اور پانچ ملی گرام کے درمیان ہوتا ہے

اگر یہ بھی سوچا جائے کہ شاید انھوں نے جب کتاب لکھی تو اس وقت انسانوں کی آبادی کم تھی تو پھر بھی ان کا دعویٰ درست نہیں لگتا۔

لیکن پروفیسر فرانسس ریٹنیکس کے خیال میں اگر ایڈورڈ ولسن اور برٹ ہولڈوبلر کا دعویٰ انسانوں کی حالیہ آبادی کو ذہن میں رکھتے ہوئے غلط بھی ہو لیکن دو ہزار سال پہلے تو چیونٹیوں کا کل وزن انسانوں سے یقینًا درست تھا کیونکہ انسانوں کی آبادی کم تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ 1776 میں امریکہ کی آزادی کے وقت یا شاید اس سے تھوڑا سا پہلے انسانوں کا وزن بڑھنا شروع ہو گیا تھا۔

پروفیسر ریٹنیکس کہتے ہیں کہ ’ہمیں یہ بھی یاد رکھنا ہو گا کہ انسان دن بدن موٹے ہوتے جا رہے ہیں اور ہماری نہ صرف آبادی بڑھ رہی ہے بلکہ موٹاپا بھی بڑھ رہا ہے تو میرے خیال میں ہم نہ چیونٹیوں کو کافی پیچھے چھوڑ دیا ہے‘۔

اسی بارے میں