دُمدار ستارے پر روبوٹ 12 نومبر کو اتارا جائے گا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یورپی خلائی ایجنسی کا کہنا ہے کہ ان کے پاس روبوٹ بھیجنے کا صرف ایک موقع ہوگا

یورپی ممالک کے خلائی جہاز ’روزیٹا‘ سے منسلک ماہرین کا کہنا ہے کہ دمدار ستارے ’کومٹ 67 پی‘ پر ایک روبوٹ اتارنے کے لیے 12 نومبر کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔

اس وقت روزیٹا ایک بہت بڑی برفانی پہاڑی جس کو 67پی کہتے ہیں کے گرد چکر کاٹ رہی ہے۔

12 نومبر کو 20 کلومیٹر کے فاصلے سے ایک چھوٹا روبوٹ دمدار ستارے پر اتارا جائے گا۔

مشن کے ساتھ منسلک ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سب کچھ منصوبے کے تحت ہوا تو روبوٹ دمدار ستارے کی سطح پر 12 نومبر کو تین بج کر 35 منٹ جی ایم ٹی پر لینڈ کرے گا۔

یورپی خلائی ایجنسی کا کہنا ہے کہ ان کے پاس روبوٹ بھیجنے کا صرف ایک موقع ہوگا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دمدار ستارہ زمین پر جس مقام پر اتارا جائے گا اس کے لیے ضروری ہے کہ وہاں نوکیلی چٹانیں یا پتھر نہ ہوں۔

اس کے علاوہ ماہرین نے اس بات کو بھی مدنظر رکھا ہے کہ دُمدار ستارے کا زمین سے فاصلہ اور اس کی رفتار اتنی زیادہ نہ ہو کہ روزیٹا اس کی سطح پر ’فیلی‘ کو آرام سے اتار نہ سکے۔

اس دوران یہ بھی ضروری ہوگا کہ روبوٹ مسلسل زمین کے ساتھ رابطے میں رہے اور ان کئی گھنٹوں میں روبوٹ کے ساتھ ریڈیائی رابطہ قائم رہے جب دُمدار ستارہ زمین کی سطح پر اتر رہا ہو۔

اس سے قبل ’روزیٹا‘ سے منسلک ماہرین کا کہنا ہے کہ دمدار ستارے ’کومٹ 67 پی‘ پر ایک روبوٹ اتارنے کے لیے پانچ مقامات کا انتخاب کر لیا گیا تھا۔

مذکورہ خلائی مشن سے منسلک انجینیئرز کا کہنا ہے کہ انھوں نے ان مقامات کا انتخاب کرتے وقت اس بات کا خاص خیال رکھا کہ روبوٹ اتارنے میں کم سے کم خطرات ہوں۔

اس سے قبل دس ارب ٹن وزنی دمدار ستارے پر اترنے کی ایسی کوئی کوشش نہیں کی گئی ہے۔

خلائی مشن روزیٹا اور کومٹ 67 دونوں اس وقت زمین سے تقریباً چار ارب کلومیٹر دور ہیں، جس کی وجہ سے یہ ممکن نہیں کہ زمین سے خلائی مشن کے ساتھ رابطہ ہر وقت قائم رہے۔

اس لیے ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کا منصوبہ مکمل طور پر آٹو میٹک ہوگا اور ’فیلی‘ نامی روبوٹ کی حرکات و سکنات خلا میں بھیجے جانے سے کئی دن پہلے ہی اُس پر اپ لوڈ کر دی جائیں گی۔

ممکنہ پانچ مقامات کا انتخاب گذشتہ آخرِ ہفتہ فرانس میں یورپی خلائی ادارے کے ایک اجلاس میں میں کیا گیا جہاں ممکنہ مقامات کی ’ایک طویل فہرست‘ پیش کی گئی تھی۔

اس اجلاس میں یورپی خلائی ادارے کے علاوہ فرانس اور جرمنی کے قومی خلائی اداروں کے ماہرین نے بھی شرکت کی جو کہ ’فیلی‘ بھجوانے کی کوششوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔

اجلاس کے موقع پر آلات اور پرزوں کے ماہرین بھی موجود تھے جہنوں نے کپڑے دھونے والی مشین کے حجم کے برابر اپنے اپنے روبوٹ انتخاب کے لیے پیش کیے۔

اسی بارے میں