موبائل سپائی ویئر بیچنے والے پاکستانی پر فردِ جرم عائد

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption یہ ایپ ایپل کے آئی فونز کے علاوہ اینڈروئڈ اور بلیک بیری سسٹم پر چلنے والے فونوں کی نگرانی بھی کر سکتی ہے

امریکہ میں سمارٹ موبائل فونز کی جاسوسی کا پروگرام فروخت کرنے والی کمپنی کے پاکستانی مالک پر فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق لاہور سے تعلق رکھنے والے 31 سالہ حماد اکبر پر الزام ہے کہ انھوں نے ’سٹیلتھ جینی‘ نامی ایپلیکشن کی تشہیر کی اور اسے فروخت کیا۔

اس ایپ کی مدد سے مبینہ طور پر موبائل فون سے کی جانے والی کالز کے علاوہ ٹیکسٹ پیغامات اور ای میلز کی نگرانی کی جا سکتی ہے۔

امریکی محکمۂ انصاف کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ موبائل فونز کی نگرانی کے پروگرام کی فروخت کے سلسلے میں امریکہ میں کسی فوجداری مقدمے میں فردِ جرم عائد ہوئی ہے۔

حماد اکبر کو گذشتہ ہفتے امریکی ریاست کیلیفورنیا کے مرکزی شہر لاس اینجلس سے گرفتار کیا گیا تھا اور پیر کو انھیں وفاقی عدالت کے ایک میجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا۔

ان پر سازش اور نگرانی کے عمل میں استعمال ہونے والے ممنوعہ آلات کی فروخت کے الزامات کے تحت فرد جرم عائد کی گئی ہے۔

محکمۂ انصاف کا کہنا ہے کہ حماد اکبر کی کمپنی ’انوو کوڈ‘ چار برس تک یہ موبائل ایپ فروخت کرتی رہی جس کی مدد سے 15 فٹ رداس کے دائرے میں کی گئی موبائل فون کالز ریکارڈ کی جا سکتی تھیں۔

اس کے علاوہ اس کی مدد سے موبائل فون کے مالک کے علم میں لائے بغیر اس کا کیلینڈر، تصاویر اور ای میلز بھی دیکھی جا سکتی تھیں۔

یہ ایپ ایپل کے آئی فونز کے علاوہ اینڈروئڈ اور بلیک بیری سسٹم پر چلنے والے فونوں کی نگرانی بھی کر سکتی ہے۔

’انوو کوڈ‘ کے مطابق کمپنی کو توقع تھی کہ اپنے ساتھی پر بےوفائی کا شک کرنے والے مرد و خواتین سے اس ایپلیکیشن کے بڑے خریدار ہوں گے۔

استغاثہ کی جانب سے پیش کی گئی دستاویزات کے مطابق کمپنی کا اندازہ تھا کہ اس کے 65 فیصد صارف ایسے ہی افراد ہوں گے۔

خیال رہے کہ کمپنی کی ویب سائٹ پہلے ہی عدالتی حکم پر بند ہو چکی ہے۔