ٹرانسپلانٹ کیے گئے رحم مادر سے پہلے بچے کی پیدائش

بچے کے والد کا کہنا ہے کہ ان کا بیٹا ’حیرت انگیز‘ ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشن

بچے کے والد کا کہنا ہے کہ ان کا بیٹا ’حیرت انگیز‘ ہے

سویڈن میں ایک خاتون نے ٹرانسپلانٹ کیے ہوئے رحم مادر کے ذریعے ایک بچے کو جنم دیا ہے۔

ڈاکٹروں کے مطابق یہ طبی تاريخ کا پہلا واقعہ ہے جب پیوند کاری (ٹرانسپلانٹ) کیے ہوئے رحم مادر سے کوئی بچہ پیدا ہوا ہے۔

واضح رہے کہ ماں بننے والی 36 سالہ خاتوں بغیر رحم مادر کے پیدا ہوئیں تھیں جنھیں ایک معمر خاتون نے اپنا رحم مادر عطیے میں دیا تھا اور ڈاکٹروں نے اسے دوسری خاتون میں پیوست کیا تھا۔

برطانوی جرنل ’دا لینسٹ‘ کے مطابق بچے کی قبل از وقت پیدائش ستمبر میں ہوئی اور پیدائش کے وقت اس کا وزن تقریباً پونے دو کلوگرام تھا۔

بچے کے والد کا کہنا ہے کہ ان کا بیٹا ’حیرت انگیز‘ ہے۔

طبی اعتبار سے پیدائش میں کسی خرابی یا پھر کینسر کے علاج کی صورت میں ایک عورت رحم مادر سے محروم ہو جاتی ہے اور اگر وہ اپنا بچہ چاہتی ہیں تو اس کا واحد طریقہ اب تک کرایے کی کوکھ ہوا کرتی تھی۔

سویڈن کے اس والدین کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے لیکن اطلاعات کے مطابق ماں کا رحم مادر ابھی تک ٹھیک ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشن

انسانی اعضا کی شجرکاری یا پیوندکاری یعنی ٹرانسپلانٹیشن کے شعبے میں طب نے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں

اس جوڑے نے بچہ پیدا کرنے کے لیے آئی وی ایف کا سہار لیا اور ان کے 11 نطفےتیار کیے گئے پھر انھیں منجمد کر دیا گیا۔

اس کے بعد گوتھنبرگ کی سالگرینسکا یونیورسٹی ہسپتال کے ڈاکٹروں نے رحم مادر کو ٹرانسپلانٹ کرنے کا کام کیا۔

رحم مادر دینے والی ان ہی کے خاندان کی ایک 61 سالہ خاتون تھیں۔

ڈاکٹروں نے جسم کی قوت مدافعت کو دواؤں کے ذریعے کم کر دیا تاکہ ان کا جسم رحم مادر کو رد نہ کرے۔

ٹرانسپلانٹ کے ایک سال بعد ڈاکٹروں نے منجمد نطفوں میں سے ایک نطفے کو رحم مادر میں ڈال دیا اور حمل ٹھہر گیا۔

بچے کی پیدائش 31 ہفتے میں ہی قبل از وقت ہوئي کیونکہ ایک پریشانی کی وجہ سے بچے کے دل کی دھڑکن معمول کے برخلاف ہو گئي۔

اطلاعات کے مطابق اب بچے اور ماں دونوں کی صحت بہتر ہے۔

خبر رساں ادارے اے پی کو دیے جانے والے ایک انٹرویو میں نام ظاہر کیے بغیر بتایا گیا کہ’یہ ایک مشکل سفر تھا لیکن اب ہمارے پاس ایک حیرت انگیز بچہ ہے جو دوسرے بچوں سے مختلف نہیں ہے اور وہ اپنی کہانی خود کہے گا۔‘