ٹوئٹر کا امریکی حکومت کے خلاف مقدمہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ٹوئٹر کا کہنا ہے کہ یہ آزادئ اظہار کے حق کی خلاف ورزی ہے جس کی امریکی آئین میں پہلی ترمیم میں تشریح کی گئی ہے

ٹوئٹر نے امریکی حکومت کے جاسوسی کے قوانین پر اس کے خلاف ایک امریکی عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا ہے۔

موجودہ قوانین کے تحت ٹوئٹر قومی سلامتی کے حوالے سے صارفین کی معلومات کے لیے حکومت کی جانب سے کی گئی درخواستوں کے بارے میں بعض تصیلات نہیں بتا سکتا۔

ٹوئٹر کا کہنا ہے کہ یہ آزادئ اظہار کے حق کی خلاف ورزی ہے جس کی امریکی آئین میں پہلی ترمیم میں تشریح کی گئی ہے۔

ٹوئٹر کا کہنا ہے کہ اس نے یہ مقدمہ حکومت کو اس بات پر مجبور کرنے کے لیے کیا ہے کہ وہ صارفین کی معلومات کے حوالے سے زیادہ شفافیت سے کام لے۔

ٹوئٹر نے یہ مقدمہ منگل کو شمالی کیلی فورنیا کی ایک عدالت میں ایف بی ائی اور امریکی محکمۂ انصاف کے خلاف دائر کیا ہے۔

اپریل میں ٹوئٹر نے امریکی حکومت کو شفافیت پر ایک رپورٹ شائع کرنے کے لیے بھجوائی تھی مگر اب تک حکومت نے اسے شائع کرنے سے اور اس کی مکمل تفصیلات کو عوام کے ساتھ شیئر کرنے سے انکار کیا ہے۔

اس رپورٹ میں حکومت کی جانب سے ٹوئٹر صارفین کی ذاتی معلومات کے حوالے سے کی گئی درخواستوں کے بارے میں معین معلومات دی گئی ہیں۔

دوسری ٹیکنالوجی کمپنیوں جیسا کہ گوگل کی نسبت ٹوئٹر حکومت کی جانب سے کم ایسی درخواستیں وصول کرتی ہے مگر امریکہ کی شہری آزادی کی یونین نے کہا ہے کہ اس مقدمے کے نتیجے میں ممکن ہے کہ دوسرے بھی حرکت میں آئیں۔

یونین کے نائب لیگل ڈائریکٹر جمیل جعفر نے کہا کہ ’ہمیں امید ہے کہ دوسری ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی ٹوئٹر کی پیروی کریں گی۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’ٹیکنالوجی کمپنیوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے صارفین کی حساس معلومات کا تحفظ یقینی بنائیں حکومتی جاسوسی کے مقابلے میں اور اس حوالے سے کھل کر صارفین کو با خبر رکھیں کہ ان کی ذاتی معلومات کیسے استعمال اور شیئر کی جاتی ہیں۔

کئی بڑی امریکی کمپنیاں حکومت کی جانب سے اپنے صارفین کی ذاتی معلومات کی درخواستوں کے خلاف لڑتی رہی ہیں جن میں مائیکروسافٹ، گوگل، فیس بُک اور ڈراپ باکس شامل ہیں۔

دوسری کمپنیاں جیسا کہ ایپل نے حکومتی درخواستوں کو روکنے کے لیے صارفین کے ڈیٹا کو انکرپٹ یعنی کوڈز میں تبدیل کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں ایسے طریقے سےجو اسے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی دسترس سے دور کر دیتی ہیں۔

اسی بارے میں