سکول تاخیر سے، کارکردگی ’بہتر‘

طالبِ علم
Image caption نو عمر طالبِ علموں کے لیے صبح سات بجے اٹھنا اسی طرح ہے جس طرح بالغوں کے لیے صبح پانچ بجے

برطانیہ میں سینکڑوں طالب علم اب مزید ایک گھنٹہ نیند کا مزہ لے سکیں گے۔

یہ سہولت اس تجربے کا حصہ ہے جس میں یہ دیکھا جائے گا کہ کیا سکول کو ذرا دیر سے شروع کرنے سے برطانوی امتحان جی سی ایس ای کا نتیجہ بہتر آتا ہے۔

اوکسفرڈ یونیورسٹی کے محققین کے مطابق نوجوان بڑی عمر کے بالغوں کے مقابلے میں دو گھنٹے کے بعد مناسب طریقے سے کام شروع کرتے ہیں۔

اس تجربے میں تقریباً سو سے زیادہ سکولوں کے 32 ہزار کے قریب طلبہ پر تجربہ کر کے دیکھا جائے گا کہ کیا اس طرح ان کے زیادہ بہتر نمبر آتے ہیں۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس سے بہتر ذہنی کارکردگی کے علاوہ دیگر فائدے بھی حاصل ہو سکتے ہیں۔

نیند پر تحقیق کرنے والے پروفیسر کولن ایسپی کہتے ہیں: ’ہمارے دادا دادی نے ہمیشہ بتایا ہے کہ نیند کتنی اہم ہے۔ ہمیں ہمیشہ اس کا پتہ تھا لیکن ہم حال ہی میں یومیہ تبدیلی کے آہنگ کی اہمیت سے آگاہ ہوئے ہیں۔

’ہمیں معلوم ہے کہ یہ بات کچھ مضحکہ خیز سی لگتی ہے کہ جب نوجوانوں کے دن کا آغاز باقی دنیا کے ساتھ ہم آہنگی نہیں رکھتا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’یقیناً آپ کے والدین سمجھتے ہیں کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ سست اور خود سر ہیں۔ اگر آپ رات کو جلدی سو جاتے ہیں تبھی صبح جلدی اٹھ سکتے ہیں۔

’لیکن سائنس ہمیں بتاتی ہے کہ درحقیقت نوعمری کے دوران جسم میں ایسی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں جن کی وجہ سے اگر وہ معمول کے وقت پر نہ سوئیں تو اتنی تھکاوٹ محسوس نہیں کرتے جتنی ہمیں لگتا ہے کہ انھیں کرنی چاہیے، اور صبح اٹھتے ہوئے بھی وہ نیند کی حالت میں ہوتے ہیں۔

’ہم جس چیز پر تحقیق کر رہے ہیں وہ یہ ہے کہ اگر ہم سکول کو دس کی بجائے نو بجے شروع کریں اور اس اضافی گھنٹے کی سہولت سارا سال ملے تو کیا اس سے کارکردگی، حصول اور سکول چھوڑنے سے پہلے ضروری قابلیت بہتر ہوتی ہے؟‘

انھوں نے کہا کہ ’اگر ہم نوجوانوں کے حیاتیاتی نظام کے مطابق اپنے سسٹم کو ڈھال لیں تو ہو سکتا ہے کہ ہمیں ان کو اپنے نظام الاوقات میں فٹ کرنے سے زیادہ کامیابی ہو۔‘

اوکسفرڈ یونیورسٹی کے پروفیسر رسل فوسٹر کہتے ہیں کہ کسی نوجوان کا دن سات بجے شروع کرنے کا مطلب یہ ہی ہے جیسے کسی بالغ شخص کا پانچ بجے شروع کرنا۔

اسی بارے میں