ایبولا سے تیز پھیلتی افواہیں

Image caption لوگوں نے منھ پر ہاتھ رکھ کر ہسپتال خالی کرنا شروع کر دیا۔ ایک شخص نے اپنے موبائل فون پر اس اعلان کو ریکارڈ کر کے یو ٹیوب پر ’چلی میں ایبولا مرض کا خدشہ‘ کے نام سے پوسٹ کر دیا

امریکہ اور سپین میں ایبولا وائرس کے چند کیسوں کے علاوہ یہ مہلک وائرس مغربی افریقہ ہی میں محدود ہے۔ لیکن سماجی رابطوں کی ویب سائٹوں پر اس وائرس سے زیادہ تیزی سے افواہیں اور غلط خبریں پھیل رہی ہیں۔

اتوار کی دوپہر کو چلی کے ایک مصروف ہسپتال میں اعلان کیا گیا: ’توجہ فرمائیے، ایک مریض آیا ہے اور خدشہ ہے کہ یہ ایبولا کا مریض ہے۔ برائے مہربانی کمرہ خالی کر دیں اور کسی دوسرے ہسپتال چلے جائیں۔‘

لوگوں نے منھ پر ہاتھ رکھ کر ہسپتال خالی کرنا شروع کر دیا۔ لیکن ایک شخص نے اپنے موبائل فون پر اس اعلان کو ریکارڈ کر لیا اور یوٹیوب پر ’چلی میں ایبولا مرض کا خدشہ‘ کے نام سے پوسٹ کر دیا۔

24 گھنٹے سے کم وقت میں ایک لاکھ 20 ہزار افراد نے یہ ویڈیو دیکھی۔

یوٹیوب سے افواہ ٹوئٹر پر ’ایبولا اِن چلی‘ کے ہیش ٹیگ کے ساتھ پھیلی اور دو لاکھ افراد نے اس ہیش ٹیگ کو استعمال کیا۔

اس ٹویٹ کی بنیاد پر چلی کے میڈیا نے بھی اس خبر کو نشر کرنا شروع کر دیا۔ میڈیا نے اس بات کو نظر انداز کیا کہ ہسپتال میں ہونے والے اعلان میں ’ممکنہ‘ کا لفظ استعمال کیا گیا تھا۔

چند گھنٹے گزرنے کے بعد چلی کی وزارت صحت نے حقیقت سے آگاہ کیا: ’یہ مریض دراصل ایکواٹوریل گنی گیا تھا جہاں ایبولا وائرس نہیں پایا جاتا۔ لیکن بہت سے لوگ یہ سمجھے کہ یہ گنی گیا تھا جہاں پر ایبولا وائرس موجود ہے۔‘

وزارتِ صحت نے بعد میں کہا کہ مریض کو ایبولا نہیں، بلکہ ملیریا تھا۔

چلی میں سوشل میڈیا کے تجزیہ نگار اور کالم نگار ایدواردو آریاگادا کا کہنا ہے: ’یہ افواہ بہت جلدی پھیلی اور حکومت اس کو شروع میں دبانے میں ناکام رہی۔ حکومت نے مریض کے بارے میں وضاحت بہت دیر سے دی۔‘

ایبولا کی غلط خبریں دیگر ممالک میں بھی پھیلی ہیں۔ نرس کے ایبولا وائرس سے متاثر ہونے کے بعد افواہیں پھیلنا شروع ہو گئیں۔

کئی پیغامات میں کہا گیا کہ میڈرڈ کے کچھ علاقوں میں حکومت کی خاص جگہیں جہاں ایبولا وائرس کے متاثرین کو رکھا گیا ہے اور مزید طبی اہلکار وائرس سے متاثر ہو گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ’لوگ ایبولا کو جلد کے رنگ سے منسلک کرنے لگے۔ ہیں کسی نے کہا کہ ایبولا سیاہ فام افراد کا وائرس ہے۔ ایک اور نے کہا کہ کیا کوئی مجھے بتا سکتا ہے کہ افریقہ سے تعلق رکھنے والے یہ سیاہ فام کا یہاں رہنا کیوں ضروری ہے؟‘

واٹس ایپ پر بھیجے گئے اس پیغام کے ساتھ ایک جعلی فوٹو بھی لگائی گئی تھی۔ فیس بک پر شائع کیا گیا: ’برگر کنگ میں ایبولا کا ایک نیا مریض۔‘

یہ تمام خبریں درست ثابت نہیں ہوئیں۔

اسی طرح برازیل کی وزارت صحت نے گذشتہ ہفتے ممکنہ طور پر ایبولا سے متاثر شخص کا اعلان کیا تھا۔ بعد میں پتہ چلا کہ وہ ایبولا کا مریض نہیں تھا۔ لیکن اس اعلان کے بعد افواہوں کا بازار گرم ہو گیا۔

ٹوئٹر پر پرتگالی زبان میں لفظ ایبولا ایک لاکھ 20 ہزار بار استعمال کیا گیا۔

بی بی سی برازیل کے سوشل میڈیا ایڈیٹر برونو کارسز کا کہنا ہے کہ ایبولا کو نسل پرستی سے منسلک کرنا شروع کر دیا گیا ہے:

’لوگ ایبولا کو جلد کے رنگ سے منسلک کرنے لگے ہیں۔ کسی نے کہا کہ ایبولا سیاہ فام افراد کا وائرس ہے۔ ایک اور شخص نے کہا کہ کوئی مجھے بتا سکتا ہے کہ افریقہ سے تعلق رکھنے والے اس سیاہ فام کا یہاں رہنا کیوں ضروری ہے؟‘

تاہم اس قسم کی ٹویٹس کو بعد میں ہٹا دیا گیا۔

اسی بارے میں