ورجن گلیکٹک حادثہ، تحقیقات میں ایک برس لگ سکتا ہے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سر رچرڈ برینسن نے کہا کہ تحفظ ہمیشہ سے اُن کی اولین ترجیح رہی ہے

امریکی حکام نے ورجن گیلاکٹک نامی خلائی راکٹ کے گرنے کے واقعے کی تحقیقات مکمل ہونے میں ایک سال کا وقت لگ سکتا ہے۔

نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ نے اپنی پہلے دن کی تحقیقات مکمل کی لی ہے جبکہ سیفٹی بورڈ کے مطابق تحقیقات کے دوران ورجن گیلاکٹک اپنے فلائٹ ٹیسٹ جاری رکھ سکتی ہے۔

ورجن گلیکٹک سپیس شپ دوم نامی کرافٹ کیلیفورنیا کے صحرائے موہاوی میں تجرباتی پرواز کے دوران گر کر تباہ ہو گیا تھا جس کے نتیجے میں پائلٹ شدید زخمی اور معاون پائلٹ ہلاک ہوگیا۔

سنیچر کو نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ کی ٹیم بھی صحرائے موہاوی پہنچی جبکہ ورجن گروپ کے سربراہ سر رچرڈ برینسن نے کہا کہ وہ یقینی طور پر اس حادثے کے بارے میں یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ’کیا غلط ہوا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اس حادثے میں ہلاک ہونے والے پائلٹ کا نام مائیکل ایلزبری بتایا گیا ہے جن کی عمر 39 سال تھی

اس حادثے میں ہلاک ہونے والے پائلٹ کا نام مائیکل ایلزبری بتایا گیا ہے جن کی عمر 39 سال تھی جبکہ اُن کے ساتھی جو اس حادثے میں بچ گئے تھے ان کے نام کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں بتائی گئی ہے۔

سر رچرڈ برینسن نے موہاوی کے فضائی اور خلائی اڈے پر جہاں یہ جہاز تیار کیا گیا تھا بات کرتے ہوئے کہا کہ ’کسی نے بھی خلائی سفر میں درپیش خطرات کا غلط اندازہ نہیں لگایا تھا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption حادثے کی تصاویر جب جہاز علیحدگی کے فوری بعد تباہ ہو گیا

ورجن نے امید ظاہر کی تھی کہ وہ خلائی سفر کا کمرشل طور پر آغاز 2015 تک کر سکے گی اور اس نے پہلے ہی 700 کے قریب مسافروں کی بکنگ کر رکھی ہے جو اس سفر پر جانا چاہتے ہیں جن میں سر رچرڈ برینسن بھی شامل ہیں جنھوں نے وعدہ کیا ہے کہ وہ پہلے سفر میں خود شریک ہوں گے۔

ایک مسافر نے بکنگ ڈھائی لاک امریکی ڈالر کے ساتھ کی ہے۔

سر رچرڈ برینسن نے کہا کہ ’یہ ہمارے تجرباتی پائلٹس کا حق ہے کہ ہم جانیں کہ کیا غلط ہوا اور جب ہمیں پتا چلے گا اگر ہم اس خامی کو دور کر سکے تو ہم اسے کریں گا تو یقینی بنائیں گے کہ یہ خواب حقیقت کا روپ دھارے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ورجن گیلاکٹک کا راکٹ ایک طیارے کے ساتھ جڑا ہوتا ہے جسے فضا میں لیجا کر علیحدہ کر کے چھوڑا جاتا ہے

انہوں نے یقین دلایا کہ ان کی کمپنی اور اس کی اشتراکی کمپنیاں ’کئی سالوں سے تجربات کر رہی تھیں اور تحفظ ہماری سب سے اولین ترجیح تھی۔‘

نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈکے 13 سے 15 اراکین کی ٹیم صحرائے موہاوی پہنچی تھی اور اس نے پانچ کلومیٹر تک پھیلے جہاز کے ملبے کی تحقیقات مکمل کیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سنیچر کو نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ کی ٹیم بھی صحرائے موہاوی پہنچی جو اس حادثے کی تحقیقات کا آغاز کرے گی

نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ کےقائم مقام سربراہ کرسٹوفر ہارٹ نے کہا کہ ان کا کام ہو گا کہ وہ دستیاب مواد کا تفصیلی جائزہ لیں اور گواہوں کے انٹرویو لیں۔

انہوں نے کہا کہ ’یہ ایک تجرباتی پرواز تھی جس کا ڈیٹا بہت محنت سے رکھا جاتا ہے۔‘

اسی بارے میں