’ٹوئٹر و فیس بک شدت پسندوں کے کمانڈ و کنٹرول نیٹ ورک بن گئے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption کمپنیوں کا کہنا ہے کہ کہ وہ حکومت کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہیں لیکن جاسوسی کا کام کسی قانون کے دائرے میں اور زیرِ نگرانی ہونا چاہیے

برطانیہ کے سکیورٹی اور انٹیلی جنس ادارے گورنمٹٹ کمیونیکیشن ہیڈ کوارٹر کے نئے سربراہ نے کہا ہے کہ ٹوئٹر، فیس بک اور وٹس ایپ جسیے بڑی ویب سائٹس ’شدت پسندوں اور جرائم پیشہ افراد کا کمانڈ اینڈ کنٹرول نیٹ ورک بن گئیں ہیں۔‘

گورنمٹٹ کمیونیکیشن ہیڈ کوارٹر یا جی سی ایچ کیو کے نئے سربراہ رابرٹ ہیننگن نےکہا ہے کہ دولتِ اسلامیہ کے شدت پسند ’انٹر نیٹ ویب سائٹس کا استعمال کر رہے ہیں لیکن بعض کمپنیاں اس سے ’انکار‘ کر رہی ہیں۔

انھوں نے فائننشل ٹائمز میں لکھا کہ ’دولتِ اسلامیہ کے شدت پسند ان ویب سائٹس کو اپنے فروغ کے لیے، لوگوں کو دھمکانے اور نئے لوگوں کو شدت پسندی کی طرف مائل کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔‘

رابرٹ ہیننگن نے سوشل میڈیا کی ان کمپنیوں پر زور دیا کہ وہ سکیورٹی اداروں کے ساتھ تعاون کو بڑھائیں۔ تاہم شہری حقوق کی آزادی کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ کمپنیاں پہلے ہی انٹیلی جنس اداروں کےساتھ مل کر کام کر رہی ہیں۔

رابرٹ ہیننگن نے کہا کہ ان ویب سائٹس پر ’پیغامات اور مواصلات کی سکیورٹی‘ ایک بڑا چیلنج ہے جس تک آسانی سے رسائی ممکن نہیں ۔

انھوں نے لکھا کہ جی سی ایچ کیو، ایم 15 اور سیکریٹ انٹیلی جنس سروس نجی شعبے بشمول بڑی امریکی ویب کمپنیوں کے تعاون کے بغیر انٹرنیٹ پر شدت پسندوں کے اثر رسوخ کو کم کرنے کے چیلنج کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔

ادھر ابھی تک کسی بھی بڑی کمپنی نے رابرٹ ہیننگن کے تبصرے پر براہ راست اپنی رائے کا اظہار نہیں کیا۔

تاہم کمپنیوں کا کہنا ہے کہ کہ وہ حکومت کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہیں لیکن جاسوسی کا کام کسی قانون کے دائرے میں اور زیرِ نگرانی ہونا چاہیے۔

رابرٹ ہیننگن نے اس حوالے سے ’سنجیدہ بحث‘ پر زور دیا ہے کہ کمپنیوں کی جانب سے صارفین کو پرائیویسی کا کتنا حق دینا چاہیے۔

اسی بارے میں