’پرندے اپنے انڈوں کی شکل کی وجہ سے ناپید نہیں ہوئے‘

Image caption تھیروپاڈ ڈائنو سار کی ایک شاخ یعنی فضائی تھیروپاڈ کی نسل سے پرندے پیدا ہوئے

ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ پرندے اپنے انڈوں کی مخصوص شکل کی وجہ سے اس تباہی کے دوران ختم ہونے سے بچ گئے جس میں کروڑوں سال پہلے ڈائنوسار مارے گئے تھے۔

سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے 25 کروڑ سال پرانے میزوزوئک زمانے انڈوں کی شکل و شباہت کا مطالعہ کیا۔

سائنس دانوں کا خیال ہے کہ تقریباً 65 کروڑ سال پہلے زمین سے ایک شہابیہ ٹکرایا تھا جس سے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلی تھی اور ڈائنوسار اسی واقعے میں معدوم ہو گئے تھے۔

مطالعے کے محققین کا کہنا ہے کہ تباہی کے اس واقعے سے پہلے پرندوں کے انڈے کے خول اور تباہی میں بچ جانے والے انڈوں کے خول آپس میں خاصے مختلف ہیں، اور یہ وہ بچ جانے والے انڈوں ہی سے جدید دور کے پرندوں کی نسل وجود میں آئی ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق ارتقا کی پہیلی میں انڈے کی شکل’ایک چھوٹا سا معما ہے۔‘ اس دوران ایک قسم کے پرندے اس تباہی سے بچ نکلے جبکہ دوسرے ناپید ہو گئے۔

یہ تحقیق رائل سائنس جرنل میں شائع ہوئی ہے۔

تحقیق کے سربراہ اور برطانیہ کی لنکن یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر چارلس ڈیمنگ کو معلوم ہوا کہ 65 کروڑ سال پرانے اور بعد کے انڈوں کی شکلوں میں فرق نہیں جبکہ اس سے پہلے میزوزوئک زمانے کے انڈوں کی شکلیں ان سے بہت مختلف تھیں۔

انھوں نے کہا کہ ’اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ میزوزوئک کے زمانے کے پرندے تھیروپاڈ یا ڈائنوسار کی طرح کچھ کر رہے تھے جو جدید پرندوں سے مختلف تھا۔‘

تھیروپاڈ ڈائنوسار وہ شکاری جانور تھے جنھوں نے جوریسِک اور کریٹیشس کے زمانے میں زمین پر راج کیا۔

تھیروپاڈ ڈائنو سار کی ایک شاخ یعنی فضائی تھیروپاڈ کی نسل سے پرندے پیدا ہوئے۔

اگرچہ پرندوں کے زندہ بچ جانے میں انڈوں کی شکل کا کردار ہو سکتا ہے لیکن یہ اب بھی ایک معما ہے کہ کس ان کا ایک گروپ کیسے زندہ بچ نکلا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Andrey Atuchin
Image caption تھیروپاڈ ڈائنو سار وہ شکاری تھے جنھوں نے جوریسک اور کریٹیشس کے زمانے میں زمین پر راج کیا

ڈاکٹر ڈیمنگ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہمیں نہیں معلوم کہ پرندوں بڑا گروپ کیوں غائب ہوا اور جدید پرندوں کی نسل کیسے بچ گئی۔ ہم اپنی تحقیق میں یہ دعویٰ نہیں کر رہے ہیں کہ صرف یہی اس کا جواب ہے جو ہم بتا رہے ہیں۔‘

انھوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان پرندوں کے رویوں کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے۔

’میرے خیال میں جدید پرندے تباہی کے اس واقعے سے اس لیے زندہ بچ سکے کہ وہ انڈوں سے بچے پیدا کرنے کا وہی طریقہ استعمال کیا کرتے تھے جس طرح آج کل ہوتا ہے۔ اس نے گھونسلے بنائے اور انڈے سی کر بچے پیدا کیے، جبکہ اس سے پہلے پرندے تھیروپاڈ کی طرح انڈوں کو زمین میں دفن کر دیتے تھے جس سے ان کے لیے خطرہ بڑھ جاتا تھا۔‘

اسی بارے میں