نئی تحقیق کے مطابق کہکشاؤں سے باہر بھی بےشمار ستارے ہیں

تصویر کے کاپی رائٹ ESO
Image caption آسمان میں اس سے کہیں زیادہ روشنی ہے جس کی توجیہ کہکشاؤں سے آنے والی روشنی سے کی جا سکتی ہے

کائنات کے پس منظر سے آنے والی روشنی پر کی جانے والی ایک نئی تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ کائنات میں پائے جانے والے ستاروں میں سے آدھے کے لگ بھگ ستارے کہکشاؤں کے اندر نہیں بلکہ کہکشاؤں کے درمیان موجود خلا میں پائے جاتے ہیں۔

یہ تحقیق دو کیمروں کی مدد سے کی گئی جنھیں ایک راکٹ کے ذریعے کرۂ ہوائی سے باہر بھیجا گیا تھا۔

گرد و غبار اور کہکشاؤں سے آنے والی روشنیوں سے ہونے والی مداخلت کو نفی کر دینے کے بعد دیکھا گیا کہ باقی ماندہ روشنی کے اندر ہلکی ہلکی لہریں پائی جاتی ہیں۔

سائنس دانوں نے جریدے ’سائنس‘ میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں خیال ظاہر کیا ہے کہ یہ روشنی ان تنہا ستاروں سے آ رہی ہے جو کہکشاؤں کے تصادموں کے دوران کہکشاؤں سے خارج ہو گئے تھے۔

لیکن دوسرے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ روشنی تنہا ستاروں سے نہیں بلکہ بہت دور واقع کہکشاؤں سے آ رہی ہے۔

امریکی خلائی ادارے ناسا کی جیٹ پروپلشن لیبارٹری کے پروفیسر جیمی بوک اس تحقیق کے مصنفین میں سے ایک ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ کہکشاؤں کے باہر سے آنے والی روشنی ایک قسم کی ’کائناتی دمک‘ ہے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا: ’یہ بہت دھندلی ہے، لیکن بنیادی طور پر کہکشاؤں کے درمیاں خلا تاریک نہیں ہے۔ اور یہ وہ کل روشنی ہے جو کہکشاؤں اور ستاروں نے کائنات کی تاریخ کے دوران تخلیق کی ہے۔‘

اس سے قبل روشنی کی پیمائشوں سے معلوم ہوا تھا کہ آسمان میں اس سے زیادہ روشنی ہے جس کی توجیہ کہکشاؤں سے آنے والی روشنی سے کی جا سکتی ہے۔

اس کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں: یا تو یہ دور افتادہ، قدیم کہکشاؤں سے آنے والی روشنی ہے، یا پھر اس کا ماخذ کہکشاؤں سے باہر پائے جانے والے ’آوارہ‘ ستارے ہیں۔

پروفیسر بوک کی ٹیم نے ڈیٹا اکٹھا کرنے کے لیے 2010 اور 2012 میں دو راکٹ خلا میں بھیجے، جس کے دوران انھوں نے زمین کے کرۂ ہوائی سے باہر جا کر انفرا ریڈ کیمروں کی مدد سے آسمان کی وائیڈ اینگل تصاویر لیں۔

دو بار تصاویر لینے کے باعث سائنس دانوں کو نظامِ شمسی کے اندر موجود گرد و غبار کے باعث ہونے والی مداخلت کو نفی کرنے کا موقع ملا۔

تصویر کے کاپی رائٹ NASA
Image caption ماہرینِ فلکیات یہ تو جانتے تھے کہ ستارے کہکشاؤں سے خارج ہو جاتے ہیں لیکن انھیں یہ معلوم نہیں تھا کہ ان کی تعداد اس قدر زیادہ ہو گی

جب ان تصاویر سے کہکشاؤں کو بھی نفی کر دیا گیا تو سائنس دانوں کے پاس صرف خلا کی تصاویر رہ گئیں۔ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ اس خلا میں موجود روشنی کی نیلاہٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ان ستاروں سے آ رہی ہے جو کہکشاؤں سے باہر نکل گئے ہیں۔

پروفیسر بوک کہتے ہیں: ’اگر یہ روشنی دور افتادہ کہکشاؤں سے آ رہی ہوتی تو اس کا رنگ سرخی مائل ہوتا۔‘

رپورٹ کے مطابق ان تصاویر میں موجود روشنی سے اندازہ ہوتا ہے کہ کہکشاؤں سے باہر بھی تقریباً اتنے ہی ستارے پائے جاتے ہیں جتنے کہکشاؤں کے اندر ہیں۔

’ماہرینِ فلکیات یہ تو جانتے تھے کہ ستارے کہکشاؤں سے خارج ہو جاتے ہیں لیکن انھیں یہ معلوم نہیں تھا کہ ان کی تعداد اس قدر زیادہ ہو گی۔‘

تاہم دوسرے ماہرین نے اس تحقیق پر شکوک کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس ضمن میں کوئی حتمی بات جاننے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

اسی بارے میں