دنیا کی سب سے پیچیدہ اور مہنگی ترین گھڑی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اس گھڑی کے خریدار کا نام ظاہر نہیں کیا گیا

سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں ہاتھ سے تیار کی گئی ایک پیچیدہ ترین گھڑی دو کروڑ 13 لاکھ ڈالر میں فروخت ہوئی ہے۔

اس گھڑی کا نام ’گریوز سپر کامپلیکیشن‘ ہے اور اسے سنہ 1932 میں سوئس کمپنی پیٹک فلپ نے امریکہ کے امیر بینکر ہینری گریوز کے لیے تیار کیا تھا۔

گھڑی کی تیاری میں 24 قیراط سونا استعمال کیا گیا ہے اور اس کا وزن پانچ سو گرام ہے۔

ہینری گریوز نے کمپنی کو سنہ 1925 میں گھڑی تیار کرنے کا کہا تھا تاہم 1933 تک ان کے حوالے نہیں کی گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption یہ گھڑی آٹھ سال میں تیار ہوئی

جنیوا کے نیلام گھر سودبیز کے مطابق کمپیوٹر کی مدد کے بغیر تیار کی جانے جانے والی یہ دنیا کی سب سے پیچیدہ گھڑی ہے جو اب بھی ٹھیک حالت میں ہے۔

اس گھڑی ’سپر کامپلیکیشن‘ یعنی انتہائی پیچیدہ کا نام اِس لیے ملا کہ اِس میں وقت کے علاوہ کیلنڈر، چاند کے ادوار اور ہینری گریوز کے نیو یارک میں واقع اپارٹمٹنٹ سے رات کے آسمانی مناظر جیسی 24 خصوصیات موجود ہیں اور تمام خصوصیات کوگھڑی میں نصب نو سو پرزے سرانجام دیتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption نیلام گھر سودبیز کے مطابق کمپیوٹر کی مدد کے بغیر تیار کی جانے جانے والی یہ دنیا کی سب سے پیچیدہ گھڑی ہے

یہ گھڑی ہینری گریوز کے خاندان کے بعد ایک عجائب گھر سے ہوتی ہوئی قطر کے شیخ سعود بِن الثانی تک پہنچی۔

اُن کی موت کے بعد اب جب سُپرکامپلیکیشن جنیوا میں نیلام ہوئی تو یہ دنیا کی پیچیدہ ترین گھڑی ہونے کے ساتھ ساتھ مہنگی ترین گھڑی بھی بن گئی۔

اس گھڑی کے خریدار کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔اس سے پہلے یہ سال 1999 میں ایک کروڑ دس لاکھ ڈالر میں فروخت ہوئی تھی۔

اسی بارے میں