ناسا کے سابق ایئر فیلڈ پر اب گوگل کا تصرف

تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption اس معاہدے میں سیلیکون ویلی کی ایک اہم اور یادگار عمارت ہینگر ون کی بحالی بھی شامل ہے

خلائی تحقیق اور روبوٹ کے شعبے میں تحقیق کے لیے گوگل نے اپنی تازہ سرمایہ کاری میں ناسا کے ایئر فیلڈ کو لیز پر لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

گوگل کی ایک شاخ پلینیٹری وینچرز اب امریکی خلائی تحقیقی ادارے ناسا کی موفیٹ فیڈرل ایئر فیلڈ کا انتظام اپنے ذمے لے رہی ہے۔

اطلاعات کے مطابق کمپنی کے ارب پتی حضرات اپنے ذاتی طیاروں کو اتارنے کے لیے پہلے سے ہی اس ایئر فیلڈ کا مستقل طور پر استعمال کر رہے ہیں۔

تاہم گوگل نے یہ نہیں بتایا کہ وہ اس جگہ کا استعمال کس طرح کرے گی۔

ناسا کی پریس ریلیز کے مطابق: ’اس جگہ کا استعمال خلائی دریافت، ہوا بازی، روبوٹکس اور ٹیکنالوجی کے دیگر ابھرتے ہوئے شعبوں میں تحقیق، فروغ، چیزوں کے یکجا کرنے اور ان کی جانچ کرنے کے لیے کیا جائے گا۔‘

ناسا کے لیے یہ معاہدہ خاصا منافع بخش نظر آ رہا ہے کیونکہ معاہدے کے مطابق شروع کے 60 برسوں کے دوران اسے کرایے کے طور پر ایک ارب دس کروڑ امریکی ڈالر ملیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ NASA
Image caption اس ایئر فیلڈ میں ایک گولف کا میدان بھی شامل ہے

ناسا کے منتظم چارلس بولڈن نے کہا: ’چونکہ ناسا خلا میں اپنی موجودگی میں توسیع کر رہا ہے اس لیے یہ زمین پر اپنے قدموں کے نشان کم کرنے کی کوشش ہے۔‘

اس معاہدے میں سیلیکون ویلی کی ایک اہم اور یادگار عمارت ہینگر ون کی بحالی بھی شامل ہے۔ یہ دنیاکی سب بڑی آزاد عمارت ہوا کرتی تھی اور اس کی تعمیر سنہ 1933 میں ہوئی تھی۔

پلینیٹری وینچرز اس کی بحالی میں تقریباً 20 کروڑ امریکی ڈالر خرچ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

اسی بارے میں