’فیلے کے لیے خطرہ مول لینے کا وقت آ گیا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ’فیلے‘ کو اس وقت دمدار ستارے کے اس مقام پر پڑنے والی سورج کی 12 گھنٹے کی روشنی میں سے صرف ڈیڑھ گھنٹہ دستیاب ہے

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ زمین سے 50 کروڑ کلومیٹر دور واقع دمدار ستارے پر اتارے جانے والے خلائی روبوٹ ’فیلے‘ کے ساتھ خطرات مول لینے کا وقت آ گیا ہے کیونکہ اس کی بیٹری چند گھنٹوں میں ختم ہو سکتی ہے۔

خیال ہے کہ روبوٹ کی ذخیرہ شدہ توانائی جمعے کو ختم ہو جائے گی اور اسی لیے یورپی خلائی ادارے سائنس دان ’فیلے‘ کو ستارے کی سطح میں سوراخ کرنے کے احکامات دینے والے ہیں۔

فیلے اس وقت دمدار ستارے کی سطح پر ایک چٹان کے سائے تلے موجود ہے اور اسے سنیچر کے بعد کام کرنے کے لیے درکار شمسی توانائی دستیاب نہیں ہوگی۔

امید کی جا رہی ہے کہ یہ روبوٹ کچھ ایسے نمونے نکال لے گا جن کا اس پر موجود تجربہ گاہ میں تجزیہ کیا جا سکے گا۔

تاہم کھدائی کا یہ عمل انتہائی خطرناک ہے کیونکہ سوراخ کرنے کے عمل کے دوران جھٹکے لگنے سے روبوٹ کا توازن بگڑ سکتا ہے۔

فیلے کو دمدار ستارے پر قدم جمانے کے لیے دو بار کوشش کرنا پڑی تھی کیونکہ پہلی کوشش کے دوران یہ دمدار ستارے کی سطح کو چھونے کے بعد اچھل کر دوبارہ خلا میں 11 کلومیٹر تک چلا گیا تھا۔

دوسری کوشش میں فیلے اپنے ہدف سے ایک کلومیٹر کے فاصلے پر اترا جہاں سورج کی روشنی کم پڑتی ہے جس کی وجہ سے اسے شمسی پینلز کے ذریعے بیٹری مکمل طور پر چارج کرنے میں مشکل کا سامنا ہو گا۔

اس مشن کے مینجر ڈاکٹر سٹیفن اولامیک نے ایک تصویر کے ذریعے روبوٹ کی ممکنہ پوزیشن کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ ’یہ دمدار ستارے پر واقع کھائی میں دور دراز ایک ایسی جگہ پر موجود ہے جس کو پہلے لینڈنگ کے لیے منتخب کیا گیا تھا (لیکن بعد میں مسترد کر دیا گیا تھا)۔ روبوٹ کو اس کھائی کے کسی کنارے پر موجود ہونا چاہیے۔‘

فیلے کی ارسال کردہ تصاویر سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اس وقت کسی ڈھلوان کے کنارے پر ہے اور اس کا تین میں سے پاؤں سطح پر ٹکا ہوا نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ na
Image caption فیلے کی جانب سے بھیجی گئی اس پہلی تصویر میں ستارے کی سرمئی سطح دیکھی جا سکتی ہے

موجودہ صورتِ حال میں اولین ترجیح یہی ہے کہ دمدار ستارے کے بارے میں کم وقت میں زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کی جائیں۔

اس سے پہلے دمدار ستارے پر لینڈنگ کے بعد روبوٹ سے موصول ہونے والے سابقہ ڈیٹا سے معلوم ہوا تھا کہ پہلی بار دمدار ستارے کی سطح پر اترنے کے بعد چمٹنے میں ناکامی کے بعد اس نے اترنے کے لیے کوششیں کی تھیں۔

فیلے سے حاصل شدہ ڈیٹا کے مطابق اترنے کے عمل کے دوران یہ کم از کم تین مرتبہ اچھلا تھا کیونکہ اسے ایک جگہ پر ٹکنے میں مدد دینے والے ہارپون صحیح طرح سے کام نہیں کر سکے تھے۔

روبوٹ نے دمدار ستارے پر تاریخی لینڈنگ کے عمل سے قبل اس کی خاکستری اور سرمئی رنگ کی برفانی سطح کی تصاویر ارسال کی تھیں۔

یورپی خلائی ادارے کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ایک دہائی طویل سفر کے بعد دمدار ستارے پر روبوٹ کا اترنا انسانیت کے لیے ایک ’بڑا قدم‘ ہے۔

اسی بارے میں