خلائی روبوٹ ’فیلے‘ کی بیٹری جواب دے گئی

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption فیلے کو دمدار ستارے پر قدم جمانے کے لیے دو بار کوشش کرنا پڑی تھی

زمین سے 50 کروڑ کلومیٹر دور واقع پی 67 نامی دمدار ستارے پر اتارے جانے والے خلائی روبوٹ ’فیلے‘ کی بیٹری ختم ہوگئی ہے اور وہ اب سٹینڈ بائی حالت میں چلاگیا ہے۔

تاہم اس نے اپنی بیٹری کے خاتمے سے قبل مزید معلومات زمین پر بھیجی ہیں اور سائنسدانوں کے مطابق اس مختصر روبوٹ سے جس کارکردگی کی امید تھی، وہ اپنی ذخیرہ شدہ توانائی کے خاتمے سے قبل بھیج چکا ہے۔

فیلے اس وقت دمدار ستارے کی سطح پر ایک چٹان کے سائے تلے موجود ہے اور اس وجہ سے اسے سورج کی پوری روشنی نہیں مل پا رہی۔

شمسی توانائی نہ ملنے کی وجہ سے یہ روبوٹ اپنے پینلز کے ذریعے بیٹری مکمل طور پر چارج کرنے میں ناکام رہا ہے۔

سنیچر کو ’فیلے‘ کے سرکاری ٹوئٹر اکاؤنٹ پر کہا گیا ہے، ’میں اپنے نئے گھر یعنی 67 پی ستارے کے بارے میں آپ کو جلد ہی اور معلومات دوں گا۔‘

تاہم یورپی خلائی ایجنسی کو خدشہ ہے کہ اس روبوٹ کا زمین سے رابطہ ٹوٹ سکتا ہے اور وہ آخری مرتبہ زمین سے رابطہ کر چکا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption یورپی خلائی انجینیئرز نے فیلے کا زمین سے رابطہ ممکن بنانے کے لیے کافی کوششیں کیں لیکن ناکام رہے

فیلے بدھ کو دمدار ستارے کی سطح پر اترا تھا اور انسانی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا جب کسی خلائی جہاز نے کسی ستارے کی سطح پر قدم رکھا ہے۔

فیلے سے رابطے کا وقت پاکستانی وقت کے مطابق شام تین بجے رکھا گیا جب روبوٹ کو ستارے تک پہنچانے کے بعد اس کے گرد گردش کرنے والا مصنوعی سیارہ روزیٹا ستارے کے افق پر نظر آنا تھا۔

تاہم دن کے 12 گھنٹے میں سے صرف ڈیڑھ گھنٹے سورج کی روشنی ملنے کی وجہ سے ’فیلے‘ کی بیٹری اتنی چارج نہیں ہو سکے گی کہ وہ زمین تک رابطہ کر سکے۔

انجینئرز نے رابطہ ممکن بنانے کے لیے کافی کوششیں کی اور اس کے لیے فيلے کو چار سینٹی میٹر تک اٹھا کر اسے 35 فیصد تک گھمانا بھی شامل تھا تاکہ شمسی توانائی کے پینلز کو سورج کی زیادہ روشنی حاصل ہو سکے۔

خیال رہے کہ فیلے کو دمدار ستارے پر قدم جمانے کے لیے دو بار کوشش کرنا پڑی تھی کیونکہ پہلی کوشش کے دوران یہ دمدار ستارے کی سطح کو چھونے کے بعد اچھل کر دوبارہ خلا میں 11 کلومیٹر تک چلا گیا تھا۔

دوسری کوشش میں فیلے اپنے ہدف سے ایک کلومیٹر کے فاصلے پر اترا جہاں سورج کی روشنی کم پڑتی ہے جس کی وجہ سے اسے شمسی پینلز کے ذریعے بیٹری مکمل طور پر چارج کرنے میں مشکل کا سامنا ہو گا۔

اسی بارے میں