پاکستان میں پولیو کی صورتِحال پریشان کن ہے: ماہرین

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سی ڈی سی کی رپورٹ کے مطابق تیسری قسم کے وائرس کا آخری کیس نومبر سنہ 2012 میں پاکستان میں سامنے آیا تھا

امریکہ کی سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول یا امراض پر قابو پانے کے مرکز کے ماہرین نے کہا ہے کہ اقوامِ عالم پہلی دفعہ پولیو کے مرض کو شکست دینے والی ہے لیکن پاکستان میں پولیو کے حوالے سے صورتِ حال پریشان کن ہے۔

امریکن سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول (سی ڈی سی) نے کہا ہے کہ پولیو کے مرض کو عالمی سطح پر ختم کرنے میں ایک ’اہم سنگِ میل‘ عبور کیا گیا ہے۔ مرکز کے ماہرین کے خیال میں پولیو کے وائرسز کے تیسری قسم کے دوسرے وائرس کو انسدادِ پولیو کے قطرے پلانے کی مہم کے ذریعے ختم کیا گیا ہے۔

پولیو کی تیسری خطرناک قسم کے وائرس ٹائپ تھری گذشتہ دو سالوں میں کہیں پر بھی نہیں ملے ہیں۔ ٹائپ ٹو وائرس کو سنہ 1999 میں ختم کیا گیا تھا۔

پولیو ایک خطرناک مرض ہے اور اس سے 200 میں سے ایک بچہ اپاہج ہو جاتا ہے جبکہ بعض بچے اس سے مر بھی جاتے ہیں۔ لیکن اس پر قابو پانے میں بہت پیش رفت ہوئی ہے۔

پولیو کے کیسز سنہ 1988 میں ساڑھے تین لاکھ تھے جو سنہ 2013 تک کم ہو کر 416 رہ گئے تھے۔

سی ڈی سی کی رپورٹ کے مطابق تیسری قسم کے وائرس کا آخری کیس نومبر سنہ 2012 میں پاکستان میں سامنے آیا تھا۔

سی ڈی سی کے گلوبل ہیلتھ کے سینیئر مشیر ڈاکٹر سٹیفین کوچی نے کہا کہ ’ہم نے تیسری قسم کے دوسرے وائرس کو ختم کیا ہوگا، یہ ایک بہت بڑا سنگِ میل ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption پاکستان میں گذشتہ سال پولیو کے صرف 59 کیسز تھے اور سنہ 2014 میں یہ 236 تک پہنچ گئے ہیں

تاہم ٹائپ تھری وائرس کے ختم ہونے کا سرکاری طور پر اعلان کرنے کے لیے ایک طریقۂ کار کی ضرورت ہوتی ہے جس میں پولیو گوبل سرٹیفیکیشن کمیشن کو شامل کرنا پڑتا ہے اور اس پر تقربیاً ایک سال سے زائد کا عرصہ لگ سکتا ہے۔

پولیو کا ٹائپ ون یا پہلی قسم کا وائرس پاکستان، افغانستان اور نائجیریا میں باقاعدگی سے سامنے آتا ہے۔

ڈاکٹر سٹیفین نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ سب سے زیادہ چبھنے والا ہے۔ یہ وائرس سب سے زیادہ پولیو کی وبا کا باعث بنتا ہے اور اس کی وجہ سے بچے آپاہج کرنے والی پولیو مرض کا شکار ہوتے ہیں۔‘

نائجیریا میں صورتِ حال بہتر ہو رہی ہے اور گذشتہ سال کے مقابلے میں یہاں پولیو کے کیسز میں کمی واقع ہوئی ہے، سنہ 2013 میں نائجیریا میں پولیو کے 53 کیسز سامنے آئے تھے جبکہ اس سال صرف چھ کیسز معلوم ہوئے ہیں۔

ڈاکٹر سٹیفین نے کہا کہ ’لیکن سب سے بڑا مسئلہ پاکستان میں صورتِ حال ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ ap
Image caption ڈاکٹر کوچی کا کہنا ہے کہ اس نقل مکانی کی وجہ سے اچھی خبر یہ ہے کہ اب ان علاقوں کے بچے پناہ گزین کیمپوں میں دستیاب ہیں جہاں انھیں پولیو سے نجات کا ٹیکہ لگایا جا رہا ہے

پاکستان میں گذشتہ سال پولیو کے صرف 59 کیسز تھے اور سنہ 2014 میں یہ 236 تک پہنچ گئے ہیں اور اس میں اضافہ ہو رہا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں طالبان نے تقریباً دو سال تک ویکسینیشن پروگرام کو چلنے نہیں دیا۔

اور پاکستانی فوج کی جانب سے حالیہ آپریشنز کے بعد رواں سال گرمیوں میں اس علاقے سے بڑے پیمانے پر لوگوں نے نقل مکانی کی ہے۔

ڈاکٹر کوچی کا کہنا ہے کہ ’اس نقل مکانی کی وجہ سے اچھی خبر یہ ہے کہ اب ان علاقوں کے بچے پناہ گزین کیمپوں میں دستیاب ہیں جہاں انھیں پولیو سے نجات کا ٹیکہ لگایا جا رہا ہے۔‘

’تاہم اس کے ساتھ بری خبر یہ ہے کہ پولیو کا وائرس اس کے ساتھ پورے ملک میں پھیل گيا ہے اور پنجاب اور کراچی سے پولیو کے کیسز سامنے آئے ہیں۔‘

جس کا مطلب یہ ہوا کہ اس سے دوسرے ممالک میں بھی وائرس کے پھیلنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ یاد رہے کہ یہ وائرس پاکستان سے سنہ 2013 میں شام پہنچا تھا۔

اسی بارے میں