کیا چاند پر انسانی باقیات چھوڑنا قانونی ہے؟

Image caption چندہ دینے والے افراد کے ذاتی پیغامات، تصاویر، موسیقی اور ویڈیوز اس روبوٹ کے ذریعے چاند پر پہنچائی جائیں گی

ایک برطانوی کنسورشیئم نے عوامی چندے کی مدد سے 80 کروڑ ڈالر کی رقم جمع کرنے کا ایک منصوبہ پیش کیا ہے اور اس رقم کی مدد سے آئندہ دس برس میں ایک نجی روبوٹک جہاز چاند پر بھیجا جائے گا۔

چندہ دینے والے افراد کے ذاتی پیغامات، تصاویر، موسیقی اور ویڈیوز اس روبوٹ کے ذریعے چاند پر پہنچائی جائیں گی۔

اس کے علاوہ ان کے بالوں کی ایک لٹ بھی لے جائی جائے گی جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ ایک ارب سال تک چاند پر رہے گی۔

لیکن مائیک ونڈلنگ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا یہ قانونی طور پر جائز اور قابل قبول ہے کہ ایسی چیزیں چاند پر لے جا کر چھوڑ دی جائیں؟

نیویارک کے ایک وکیل ٹموتھی نیلسن کا کہنا ہے کہ سنہ 1967 میں چاند پر نظر رکھنے کے لیے طے پانے والا بین الاقوامی سمجھوتہ اس بارے میں خاموش ہے۔

اس سمجھوتے کے تحت چاند کے کسی حصے پر کوئی بھی ملکیت کا دعویٰ نہیں کر سکتا لیکن اسی قانون کے باعث ابھی تک کوئی ایسی اتھارٹی سامنے نہیں آئی ہے جو کہ چاند پر ایسا سامان چھوڑنے پر پابندی کا قانون منظور کر سکے۔

چاند پر پہلے ہی سے اپولو 11 مشن کا چھوڑا ہوا کوڑا موجود ہے۔ ناسا تو انسان کے پھیلائے ہوئے کوڑے کو وہاں موجود دیکھنا چاہتی ہے تا کہ کچھ عرصہ گزرنے کے بعد اس کی تاریخی اور سائنسی قدر کا تجزیہ کیا جا سکے۔

اس مشن کے لیے چندہ دینے والے 100 ڈالر سے بھی کم رقم میں اس کیپسول نما میموری ڈسک پر جگہ حاصل کر سکیں گے جسے چاند کی سطح پر ایک فٹ گہرا سوراخ کر کے دفن کیا جائے گا۔

اس کھدائی کے نتیجے میں حاصل ہونے والا اربوں برس قدیم مواد مستقبل کے سائنس دانوں کو تحقیق کے لیے دستیاب ہوگا۔

یہ منصوبہ برطانوی انجینیئر ڈیوڈ آئرن نے پیش کیا ہے اور اسے مُون مشن ون کا نام دیا گیا ہے۔

ٹموتھی نیلسن کا خیال ہے کہ چاند پر کیپسول دفن کرنا اچھی بات نہیں ہے۔ شاید ایسا کرنا غیر قانونی تو نہ ہو لیکن پھر بھی چاند کی سطح کو کھود کر وہاں ایسی چیزیں چھوڑنا اخلاقی طور پر بھی درست نہیں لگتا۔

سینٹا کارلس یونیورسٹی کی مارگریٹ میکلین کا کہنا ہے کہ اس مشن کے چاند پر اترنے، پھر وہاں پر ڈرل کر کے گڑھنا کھودنے اور آخر میں وہاں کیپسول دفن کرنے کے اثرات کتنے برے ہوں گے، اس کا جواب نہ تو کوئی جانتا ہے اور نہ جان سکےگا۔

اسی بارے میں