ایبولا وائرس کی تشخیص 15 منٹ میں ممکن

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption ایبولا وائرس کے جینیاتی اجزا سے اس کا پتہ چلایا جا سکتا ہے

افریقی ملک گنی میں ایبولا وائرس کی تشخیص کے لیے ایک نئے ٹیسٹ کا تجربہ کیا جا رہا ہے جس میں تھوک اور خون کے نمونوں سے اس کا پتہ چلایا جا سکے گا۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

شمسی توانائی کے استعمال سے چلنے والی نئی لیبارٹری سے مغربی افریقہ میں جس طریقے سے اس وقت ایبولا کی تشخیص کی جا رہی ہے، اس سے چھ گنا کم وقت میں ایبولا کی تشخیص ممکن ہو سکے گی۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایبولا وائرس کی کم سے کم وقت میں تشخیص سے اس کے مریضوں کے بچنے کے امکانات بڑھ جائیں گے اور اس وائرس کے پھیلنے کے امکانات کو بھی کم کیا جا سکتا ہے۔

یہ نیا ٹیسٹ گنی کے شہر کوناکری کے ایبولا کے علاج کے مرکز میں تجرباتی طور پر کیا جائے گا۔

روایتی طریقے سے ایبولا کے جراثیم کا پتہ مریض کے خون میں موجود ایبولا وائرس کے جنیاتی اجزا کو ڈھونڈ کر کیا جاتا ہے۔

تحقیق کاروں نے اس بات کو مد نظر رکھا کہ کس طرح دور دراز کے ہسپتالوں میں جہاں طبی سہولیات کی اکثر کمی رہتی ہے، وہاں ایبولا کا ٹیسٹ کسی طرح کرایا جائے۔

لیکن اس کے لیے مخصوص لیبارٹریوں کی ضرورت پڑتی ہے جہاں ٹیسٹ کے اجزا کو انتہائی کم درجۂ حرارت پر رکھا جا سکے۔

کوناکری میں تجرباتی مرحلے میں ان مریضوں کا نئے طریقہ سے ٹیسٹ کیا جائے گا جن کے بارے میں پہلے سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ وہ ایبولا سے متاثر ہیں۔

شمسی توانائی سے چلنے والی ایک سوٹ کیس کے سائز کی اس نئی لیبارٹری کو ہر جگہ لے جایا جا سکتا ہے، اور اسے سینیگال کے شہر ڈاکار میں پاسچر انسٹی ٹیوٹ کی رہنمائی میں چلایا جا رہا ہے۔

یہ لیبارٹری کمرے کے درجۂ حرارت پر بھی کام کر سکتی ہے۔

اس منصوبے کے لیے سرمایہ برطانیہ کے بین الاقوامی ترقی کے ادارے اور ویلکم ٹرسٹ میڈیکل کا خیراتی ادارہ فراہم کر رہے ہیں۔

ویلکم ٹرسٹ کے ڈاکٹر وال سیون نے کہا: ’15 منٹ میں ایک قابل اعتبار ٹیسٹ سے ایبولا کی وبا کو کنٹرول کرنے میں بہت مدد مل سکتی ہے جس سے مریضوں کی نشاندہی، انھیں الگ کرنے اور ان کا علاج کرنا ممکن ہو سکے گا۔

’اس سے مریضوں کے صحت یاب ہونے کے امکانات بڑھ جائیں گے اور ایبولا کا وائرس دوسرے لوگوں تک منتقل ہونے سے روکا جا سکے گا۔‘

اسی بارے میں