اورائن کا تجربہ، انسانوں کو مریخ پر لے جانے کی جانب اہم قدم

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اورائن کا پہلا سفر ہے اس لیے اس میں کوئی انسان سوار نہیں ہو گا

امریکی خلائی ایجنسی ناسا کا اورائن نامی خلائی کیپسیول اپنی پہلی پرواز کے لیے تیار ہے جس سے انسانوں کے مریخ پر جانے میں مدد ملے گی۔

اورائن کو فلوریڈا میں واقع کیپ کینیورل سے ایک مختصر سفر پر روانہ کیا جائے گا۔

یہ مخروطی کیپسیول اس اپالو خلائی جہاز کی یاد تازہ کرے گا جس کے ذریعے 1960 اور 1970 کی دہائیوں میں لوگوں کو چاند پر لے جایا گیا تھا۔

یہ اورائن کا پہلا سفر ہے اس لیے اس میں کوئی انسان سوار نہیں ہو گا۔

ناسا نے اس لانچ کو اہم قرار دیا ہے۔ ناسا کے منتظم چارلی بولڈن کا کہنا ہے کہ ’یہ بہت بڑی بات ہے۔ جمعرات ہمارے لیے بہت اہم دن ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اورائن اور ایک نہایت طاقتور راکٹ کی تیاری ایک ساتھ کی جا رہی ہے جس کا ٹیسٹ 2017 یا 2018 میں ہو گا

موسمی صورت حال اور تکنیکی حساب سے اگر سب کچھ ٹھیک رہا تو اورائن کو جمعرات کو 12 بج کر پانچ منٹ جی ایم ٹی پر لانچ کر دیا جائے گا۔

اورائن اور ایک نہایت طاقتور راکٹ کی تیاری ایک ساتھ کی جا رہی ہے جس کا تجربہ 2017 یا 2018 میں کیا جائے گا۔

اورائن اور یہ راکٹ مشترکہ طور پر اس قابل ہوں گے کہ انسانوں کو بین الاقوامی خلائی سٹیشن سے بھی آ گے مریخ تک لے جائیں۔

جمعرات کو ہونے والی اورائن کی پہلی لانچ کے لیے موجودہ سب سے زیادہ طاقتور راکٹ استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس راکٹ کے ذریعے اورائن دو بار دنیا کا چکر لگائے گا اور اس کی بلندی 6000 کلو میٹر تک ہو گی۔

زمین پر واپسی کے وقت اس کی رفتار تقریباً 30 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ ہو گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ناسا کے انجینیئوں کی خاص نظر اورائن کے پیراشوٹوں پر بھی ہو گی

اس لانچ سے انجینیئروں کو اس بات کا اندازہ ہو سکے گا کہ کیا اورائن 2000 سینٹی گریڈ تک کی حدت برداشت کر سکے گا یا نہیں۔

ناسا کے انجینیئروں کی خاص نظر اورائن کے پیراشوٹوں پر بھی ہو گی۔

اگرچہ یہ پراجیکٹ ناسا کا ہے لیکن اس کو ایرو سپیس کی مشہور کمپنی لاک ہیڈ مارٹن تیار کر رہی ہے۔ تاہم ناسا اس تجربے کا بغور جائزہ لے رہی ہے۔

اسی بارے میں