’ہیش ٹیگ ایک حادثاتی دریافت تھی‘

Image caption ’ہیش ٹیگ کو آسان ہونا چاہیے، نہ تو ہیش ٹیگ لمبے ہوں اور نہ ہی مشکل‘

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ہیش ٹیگ دریافت کرنے والے کرس مسینا کا کہنا ہے کہ یہ سادہ سا خیال حادثاتی طور پر حاصل ہوا۔

بی بی سی سی بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ چاہتے تھے کہ ٹوئٹر استعمال کرنے والے افراد ایک گروپ تشکیل دیں جس میں ’مجھے زیادہ سوچنے کی ضرورت نہ پڑے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اس خیال پر شروع میں کافی تحفظات تھے لیکن جب میں نے استعمال کرنا شروع کیا اور اپنے دوستوں کو بھی استعمال کرنے کا مشورہ دیا تو یہ کافی مشہور ہوا۔ اب ہیش ٹیگ کو سات سال ہو گئے ہیں۔‘

کرس نے بی بی سی کو بتایا کہ سب سے پہلے خبروں کے حوالے سے ہیش ٹیگ امریکی شہر سین ڈیاگو میں آگ لگنے کے واقعے میں استعمال ہوا۔

’میرا دوست اس علاقے میں موجود تھا اور اس کو میں نے کہا کہ ’سین ڈیاگو فائر‘ کا ہیش ٹیگ استعمال کرتے ہوئے تازہ خبریں ٹویٹ کرتے جاؤ۔ اور میرے دوست کی جانب سے خبریں بہت جلدی دوسروں تک پہنچیں۔‘

کمپنیوں کی جانب سے اپنی مصنوعات کی تشہیر کے لیے ہیش ٹیگ کا استعمال کرنے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اچھی بات یہ ہے کہ ’یہ کمپنیاں ہماری ٹرف پر آ کر اپنی مصنوعات بیچ رہی ہیں۔‘

بہترین ہیش ٹیگ کے لیے کون سے لوازمات ضروری ہیں؟ اس پر کرس نے کہا: ’ہیش ٹیگ کو آسان ہونا چاہیے۔ نہ تو ہیش ٹیگ لمبے ہوں اور نہ ہی مشکل۔‘

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ہیش ٹیگ کی دریافت سے انھوں نے کچھ نہیں کمایا لیکن ان کو اس ایجاد پر فخر ہے۔

اسی بارے میں