ایبولا کے روک تھام کے لیے کوششیں ناکافی ہیں: ڈبلیو ایچ او

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ڈاکٹر چین نے کہا کہ لائبیریا میں ہمیں کچھ بہتری نظر آ رہی ہے۔ بطور خاص لوفا کے علاقے میں

عالمی ادارۂ صحت ڈبلیو ایچ او کی سربراہ نے کہا ہے کہ ایبولا وائرس کے جس نے ہزاروں لوگوں کی جانیں لے لی ہیں، روک تھام کے لیے ہماری کوششیں ناکافی ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کی ڈائرکٹر جنرل مارگریٹ چین نے کہا کہ ہرچند کہ بعض سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں ’صورت حال میں بہتری آئی ہے‘ تاہم ’مطمئن ہونے کی ضرورت نہیں‘ ہے۔

انھوں نے کہا کہ دنیا کو اس وائرس سے ’خطرہ درپیش ہے‘ جبکہ اس کا پھیلاؤ جاری ہے۔

انھوں نے کہا کہ ڈبلیو ایچ او اور بین الاقوامی برادری اس کے خلاف بہت جلد حرکت میں آنے میں ناکام رہی ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق ایبولا سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک گنی، لائبیریا، سیئرا لیون میں اب تک 6331 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 17800 سے زیادہ لوگ اس مہلک وائرس کی زد میں ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ڈاکٹر چین کے مطابق ڈبلیو ایچ او اور بین الاقوامی برادری اس کے خلاف بہت جلد حرکت میں آنے میں ناکام رہی ہے

ڈاکٹر چین نے کہا: ’لائبیریا میں ہمیں کچھ بہتری نظر آ رہی ہے۔ بطور خاص لوفا کے علاقے میں۔‘

انھوں نے کہا کہ گنی اور سیئرالیون میں دو ماہ قبل کے مقابلے ’حالات کم سنگین ہیں‘ تاہم ابھی بھی بہت سے کیسیز ہیں۔

ڈاکٹر چین نے کہا: ’ستمبر میں جس قدر حالات خراب تھے اب ویسے نہیں ہیں۔ اب ہم نے اس وائرس کا شکار کرنا اور ان کا پیچھا کرنا شروع کر دیا ہے۔ امید کہ ہم اس معاملے کو صفر تک لانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔‘

مبصرین کا کہنا ہے کہ سرکاری اعداد و شمار ایبولا کے پھیلاؤ کی مجموعی صورت حال پیش نہیں کر رہے ہیں۔

ڈبلیو ایچ او نے کہا کہ اگست میں ایبولا کے معاملے کی تعداد کم بتائی گئی تھی کیونکہ لوگ بیماری اور اس سے موت کی رپورٹ نہیں کرتے تھے۔

ڈاکٹر چین نے کہا کہ اعدادوشمار میں بہتری آئی ہے لیکن اس ضمن میں ابھی مزید کام کیا جانا ہے۔

اسی بارے میں