’مصنوعی ذہانت انسانی نسل کا خاتمہ کر دے گی‘

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption پروفیسر اسٹیفن ہاکنگ خود بھی مصنوعی ذہانت کے ذریعے چلنے والی ایک مشین استعمال کرتے ہیں

معروف محقق پروفیسر اسٹیفن ہاکنگ نے بی بی سی کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں مصنوعی ذہانت کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے خیال میں مکمل مصنوعی ذہانت کی ترقی انسانی نسل کا خاتمہ کر دے گی۔ ’ایک دفعہ انسانوں نے اسے بنا لیا تو اس کی ارتقا کا عمل خود ہی آگے بڑھتا رہے گا اور انسان اپنے سست حیاتیاتی ارتقاء کی وجہ سے اس کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے۔‘

کیلی فورنیا کے مشہور سلیکن ویلی میں بڑے ہونے والے سرمایہ کار اور مصنف مائیکل ایس ملون کے مطابق مشینیں انسانوں سے زیادہ دیر زندہ رہ سکتی ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ہر زندہ چیز کا دل اس کی پوری زندگی میں تقریباً ایک ارب دفعہ دھڑکتا ہے اور دوسری جانب ایک جدید مائیکرو پروسیسر ہر سیکنڈ میں پانچ سے دس ارب حساب کرتا ہے۔ اس طرح ہم کہ سکتے ہیں بنیادی طور پر یہ آلات لازوال ہیں اور ہمیشہ زندہ رہ سکتے ہیں۔‘

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم مشینوں سے ابدی زندگی کا راز حاصل کر سکتے ہیں؟

اوپن ورم نامی ایک منصوبے پر کام کرنے والے سائنسدانوں نے حال ہی میں ایک چھوٹے کیچوے کے 302 نیوران کنکشنز پر مشتمل دماغ کا ایک نقشہ بنا یا اور اس نقشے کی طرز پر ایک سافٹ ویئر پروگرام بنایا گیا ہے۔ یاد رہے کہ انسانی دماغ تقریباً 100 کھرب نیوران کنکشنز پر مشتمل ہو تا ہے۔

اس پروگرام کو پھر ایک سادہ روبوٹ میں ڈالا گیا۔

صحافی لوسی بلیک کے مطابق یہ دعوی کیا گیا کہ اس روبوٹ میں کیچوے کی حرکات کا مشاہدہ کیا گیا۔

مائیکل ملون کا کہنا ہے کہ کسی موڑ پر ہم بھی اپنے دماغ کا نقشہ کمپیوٹر میں ڈال دیں گے جس کی وجہ سے ہمیں مشین جیسی ابدی زندگی مل جائے گی۔

ان کو اس بات کا خوف بھی ہے کہ جب ہمارا دماغ ایک مشین میں منتقل ہو جائے گا تو ہماری خودی اور شعور کا کیا ہوگا؟ کیا ہم انسان رہیں گے؟ تب کیا ہو گا اگر ہم اپنے وجود کے بغیر ہمیشہ کے لیے زندہ رہیں گے؟

اس کی پریشان کن مثالیں موجود ہیں جب انسان اپنے حیاتیاتی حصوں میں سے کچھ کا کمپیوٹر یا مشین سے ادل بدل کرتا ہے تو کیا نتیجہ نکلتا ہے۔

Image caption ڈاکٹر بارنی کلارک پہلے شخص تھے جن کے سینے میں 1982 میں مصنوعی دل گایا گیا تھا

امریکی ریاست سیئٹل کے ڈاکٹر بارنی کلارک پہلے شخص تھے جن کے سینے میں 1982 میں مصنوعی دل گایا گیا تھا۔جس کے بعد وہ 11 برس تک زندہ رہے مگر وہ اس قدر بیمار اور اداس تھے کہ مرنے کی اجازت دینے کی منت کر تے رہے۔

تو شاید ہم جذباتی طور پر ابھی مشین بننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

مگر ڈاکڑ کلارک کے منفی تجربے کے باوجود سلیکن ویلی میں کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم مشین کے ذریعے دائمی زندگی حاصل کر سکتے ہیں۔

سلیکن ویلی کے تاجر اور سرمایہ کار پیٹر تھیل کا بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’ہو سکتا ہے کہ موت ایک قدرتی عمل ہو مگر موت کے خلاف لڑنا بھی ایک قدرتی عمل ہے۔‘

لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئہے کہ فطرت کو خود بھی واپس لڑنے کی عادت ہے۔

1859 میں ایک شمسی طوفان کے نتیجے میں اتنی گرمی پڑی تھی کہ چیزیں پگھل گئی تھیں اور کئی مقامات پر آگ بھی لگ گئی تھی۔

مائیکل ملون کہتے ہیں کہ ’اگر اس طرح کا ایک اور طوفان اگر آج کے دور میں آئے تو یہ ہر مشین کو خراب کر دے گا او اگر یہ ہوا تو انسانی تہذیب رک جائے گی۔‘

اسی بارے میں