’ایبولا کا پہلا شکار چمگاڈر سے کھیلنے والا بچہ تھا‘

Image caption مغربی افریقہ میں کئی سائنسدان چمگادڑوں پر ریسرچ کر رہے ہیں

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ جان لیوا ایبولا وائرس کی شروعات گنی کے دو سال بچے امیل اومونو کے اس کھوکھلے درخت میں کھیلنے سے ہوئی جہاں بہت سی چمگادڑوں نے ڈیرا ڈال رکھا تھا۔

سائندانوں نے بچے کے گاؤں میں لوگوں سے ایبولا کی وجوہات جاننے کے لیے بات کی اور وہاں سے نمونے بھی اکٹھے کیے۔

سائندانوں کی اس ٹیم کی تحقیقات ای ایم بی او مولیکیولر میڈیسن جرنل میں شائع کی گئی ہیں۔

ایبولا ٹریل

میلینڈو 31 گھرانوں پر مشتمل ایک گاؤں ہے جو گنی کے گھنے جنگلات میں گھرا ہوا ہے۔ اس گاؤں میں بڑی تعداد میں چمگادڑ موجود ہیں اور سائنسدانوں کا خیال ہے کہ ایبولا وائرس انھی چمگادڑوں سے دو سالہ امیل اومونو کو منتقل ہوا۔

ایبولا کے آغاز کی وجوہات معلوم کرنے والی ٹیم نے ڈاکٹر فیبین لینڈرٹز نے چار ہفتوں پر محیط تحقیقاتی سفر میں جب امیل کے گاؤں کا دورہ کیا تو انھیں پتا چلا کہ یہ کھوکھلا درخت امیل کے گھر سے صرف 50 میٹر کے فاصلے پر موجود تھا۔

Image caption میلینڈو گاؤں گنی کے گھنے جنگلات میں گھرا ہوا ہے اور یہاں بڑی تعداد میں چمگادڑ موجود ہیں

گاؤں کے لوگوں نے ٹیم کو بتایا کہ امیل اور دوسرے بچے اسی کھوکھلے درخت میں کھیلتے تھے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ رواں سال مارچ میں جب اس درخت کو آگ لگی تو چمگادڑوں کی بارش برس رہی تھی۔

بغیر دم کے بہت سارے ان چمگادڑوں کو گاؤں کے باسیوں نے کھانے کے لیے جمع کر لیا تھا لیکن حکومت نے اگلے دن ان چمگادڑوں کا گوشت کھانے پر پابندی عائد کر دی جس کے بعد مرے ہوئے چمگادڑ پھینک دئیے گئے۔

تجربات:

سائنسدانوں کی ٹیم نے ٹیسٹ کرنے کے لیے جلے ہوئے کھوکھلے درخت کی راکھ کے نمونے حاصل کیے۔ انھیں گاؤں والوں کی جانب سے ضائع کیے گئے چمگادڑوں کا گوشت تو ٹیسٹ کرنے کے لیے نہیں ملا لیکن اس درخت کے قریب وہ کچھ زندہ چمگادڑوں کو پکڑنے میں کامیاب ہو گئے۔

Image caption سائنسدانوں کا خیال ہے کہ ایبولا وائرس اس کھوکھلے درخت میں رہنے والے چمگادڑوں سے دو سالہ امیل کو منتقل ہوا

ان چمگادڑوں میں ایبولا وائرس کے تو کوئی شواہد نہیں ملے لیکن پہلے کیے گئے تجربات سے ثابت ہوا تھا کہ چمگادڑ میں ایبولا کے جراثیم موجود ہو سکتے ہیں۔

جرمنی کے رابرٹ کاچ انسٹٹیوٹ کے ڈاکٹر فیبین لینڈرٹز کے مطابق ایسا شاذوناظر ہی ہوتا ہے۔ ان کے مطابق اگر زیادہ چمگادڑوں میں ایبولا وائرس ہوتا تو ایبولا وائرس کثرت سے اور بار بار پھیلتا۔

ڈاکٹر فیبین کے مطابق چمگادڑوں کے بارے میں زیادہ تحقیق کی ضرورت ہے کیونکہ یہ اب درختوں سے نکل کر انسانوں کے قریب رہنے لگے ہیں۔

ان کا خیال ہے کہ چمگادڑوں کو مارنے سے ایبولا ختم نہیں ہو گا کیونکہ یہ ایسے کیڑے مکوڑوں اور مچھروں کو کھا جاتے ہیں جن سے ملیریا پھیلتا ہے۔

اسی بارے میں