ماؤنٹ ایورسٹ پر مہم جوئی سستی ہوگئی

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ماؤنٹ ایورسٹ کی اونچائی 8848 میٹر ہے اور ہر سال یہاں کوہ پیمائی کی 30 مہمات جاتی ہیں

2015 دنیا بھر کے کوہ پیماؤں کے لیے ایک اچھی خبر کے ساتھ شروع ہوا ہے اور وہ یہ کہ نیپال کی حکومت نے ماؤنٹ ایورسٹ پر چڑھنے کے خواہشمند افراد سے لی جانے والی فیس میں کمی کر دی ہے۔

نیپالی حکومت کی جانب سے یہ اعلان نئے سال کے آغاز پر کیا گیا ہے۔

دنیا کا بلند ترین پہاڑ سر کرنے کے خواہشمند افراد کو اب سابقہ فیس کا نصف سے بھی کم ادا کرنا ہوگا۔

ماضی میں نیپال آنے والے غیر ملکی کوہ پیما حکام کو 25 ہزار ڈالر بطور فیس ادا کرتے تھے تاہم اب یہ رقم کم کر کے 11 ہزار ڈالر کر دی گئی ہے۔

نیپالی حکام نے ماؤنٹ ایورسٹ کے علاوہ دیگر پہاڑوں پر چڑھنے کی فیس بھی کم کی ہے۔

نیپال کے محکمۂ سیاحت کے ایک افسر کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد ملک میں کوہ پیمائی کو فروغ دینا ہے۔

تاہم اس فیصلے سے کچھ کوہ پیما خوش نہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ایورسٹ پر چڑھنے والے افراد کی تعداد پہلے ہی زیادہ ہے اور فیس میں کمی سے اس میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے جو ماحول کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

نیپالی حکومت نے گذشتہ برس ہی ایورسٹ سر کرنے کے لیے جانے والے تمام کوہ پیماؤں اور ان کے مددگار عملے کے لیے پہاڑ سے اترتے ہوئے آٹھ کلو کوڑا کرکٹ ساتھ لانا لازمی قرار دے دیا ہے۔

ماؤنٹ ایورسٹ کی اونچائی 29029 فٹ یا 8848 میٹر ہے اور ہر سال یہاں کوہ پیمائی کی 30 مہمات جاتی ہیں۔

ان مشنز سے حاصل ہونے والی فیس نیپال میں سیاحت سے حاصل ہونے والے زرمبادلہ کا اہم حصہ ہے۔

اس وقت ماؤنٹ ایورسٹ پر مہم جوئی پر کم از کم ایک لاکھ ڈالر مجموعی خرچ آتا ہے۔

اسی بارے میں