زیادہ تر سرطانوں کی وجہ ’بری قسمت‘

Image caption سائنس دانوں نے یہ سمجھنے کی کوشش کی جسم کے بعض خلیوں کو سرطان لاحق ہونے کا خطرہ دوسرے خلیوں کے مقابلے پر لاکھوں گنا زیادہ کیوں ہوتا ہے

ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ سرطان کی بہت سی اقسام کا تعلق تمباکونوشی جیسے خطرے کے عوامل کی بجائے صرف بری قسمت سے ہوتا ہے۔

ایک امریکی ٹیم نے یہ سمجھنے کی کوشش کی کہ جسم کے بعض خلیوں کو سرطان لاحق ہونے کا خطرہ دوسرے خلیوں کے مقابلے پر لاکھوں گنا زیادہ کیوں ہوتا ہے۔

یہ تحقیق ’سائنس‘ نامی جریدے میں شائع ہوئی ہے، اور اس میں بتایا گیا ہے کہ دو تہائی سرطان کی وجہ طرزِ زندگی کی بجائے ڈی این اے میں اتفاقی تبدیلیوں ہیں۔

دوسری طرف کینسر ریسرچ یوکے نامی تنظیم کا کہنا ہے کہ صحت مندانہ طرزِ زندگی اب بھی سرطان سے بچاؤ میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

امریکہ میں 6.9 فیصد لوگ کو زندگی کے کسی نہ کسی حصے میں پھیپھڑوں کے سرطان اور 0.6 فیصد دماغی سرطان میں مبتلا ہو جاتے ہیں جب کہ 0.00072 فیصد کے نرخرے میں رسولی پیدا ہو جاتی ہے۔

سگریٹ کے دھویں میں موجود زہریلے مواد سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پھیپھڑوں کا سرطان اتنا عام کیوں ہے۔

لیکن نظامِ انہضام کو دماغ کے مقابلے پر کہیں زیادہ مضر ماحولیاتی کیمیائی مادوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن اس کے باوجود چھوٹی آنت کے مقابلے پر دماغی سرطان کا خطرہ تین گنا زیادہ ہوتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Science Photo Library
Image caption بعض قسم کے سرطان ایسے ہیں جنھیں احتیاطی تدابیر اختیار کرنے سے روکا نہیں جا سکتا

امریکہ کی جانز ہاپکنز یونیورسٹی اور بلوم برگ سکول آف پبلک ہیلتھ کے سائنس دانوں کا خیال ہے کہ اس کی وجہ یہ بات سمجھنے میں ہے کہ خلیے کس طرح سے تقسیم ہوتے ہیں۔

جسم کے اندر پرانے خلیے مرتے رہتے ہیں اور سٹیم سیلز کی مدد سے بننے والے نئے خلیے لگاتار ان کی جگہ لیتے رہتے ہیں۔ لیکن ہر تقسیم کے دوران ڈی این اے میں خطرناک تبدیلی پیش آنے کا خطرہ ہوتا ہے، اور تقسیم شدہ خلیہ سرطان زدہ ہونے کے خطرے سے ایک قدم قریب ہو جاتا ہے۔

اس کے علاوہ ایک بات یہ بھی ہے کہ جسم کے اندر مختلف حصوں کے خلیوں کی تقسیم کی شرح مختلف ہوتی ہے۔

سائنس دانوں نے جسم کے 31 حصوں میں مشاہدہ کیا کہ زندگی بھر میں سٹیم سیل کتنی بار تقسیم ہوتے ہیں۔

انھوں نے یہ نتیجہ نکالا کہ سرطان کی دو تہائی اقسام کی وجہ صرف ’بری قسمت‘ ہے، اور یہ کہ سٹیم سیل کے ڈی این اے میں اتفاقی طور پر مضر تبدیلی رونما ہو جاتی ہے جس سے بچا نہیں جا سکتا۔

ان میں دماغ ، چھوٹی آنت اور لبلبے کے سرطان شامل ہیں۔

تحقیق میں شامل سائنس دان کرسٹین ٹوماسیٹی نے کہا کہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے سے اس قسم کے سرطانوں سے بچاؤ ممکن نہیں ہے۔

انھوں نے کہا: ’اگر دو تہائی سرطان سٹیم سیلز کی تقسیم کے وقت ڈی این اے کے اندر اتفاقی تبدیلی سے لاحق ہوتے ہیں تو طرزِ زندگی اور عادات کو تبدیل کرنے سے ایک خاص قسم کے سرطانوں سے بچنے میں تو بڑی مدد ملے گی، لیکن دوسری قسم کے سرطانوں پر یہ چیزیں اتنی موثر ثابت نہیں ہوں گی۔

’ہمیں اس طرح کی سرطانوں کی جلد تشخیص پر زیادہ وسائل صرف کرنے چاہییں جب ان کا علاج آسان ہوتا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پھیپھڑوں کے سرطان کی بڑی وجہ تمباکو نوشی ہے

بقیہ ماندہ ایک تہائی سرطانوں کا تعلق طرزِ زندگی سے یا وراثت سے ہے۔ ان میں بعض بہت عام سرطان شامل ہیں:

  • جلد کا سرطان ’بیزل سیل کارسینوما،‘ جو بالائے بنفشی شعاعوں کی وجہ سے ہوتا ہے
  • پھیپھڑوں کا سرطان، جس کا تعلق تمباکو نوشی سے ہے
  • بڑی آنت کا سرطان، جو ناقص غذا اور وراثت کی وجہ سے ہوتا ہے

ایک اور تحقیق میں کینسر ریسرچ یوکے نے بتایا تھا کہ دس میں سے چار سرطانوں کا باعث ناقص طرزِ زندگی ہے۔

40 فیصد سرطانوں سے بچا جا سکتا ہے

تنظیم سے وابستہ ڈاکٹر ایما سمتھ نے بی بی سی کو بتایا: ’ہمارا تخمینہ ہے کہ چار میں سے دس سرطانوں کو طرزِ زندگی میں تبدیلی سے روکا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر تمباکو نوشی سے پرہیز، صحت مند وزن، اچھی غذا اور کثرتِ شراب نوشی سے پرہیز۔‘

انھوں نے کہا کہ ’طرزِ زندگی میں یہ تبدیلیاں لانا سرطان کے بچاؤ کی ضمانت نہیں ہے لیکن ان سے سرطان کا خطرہ کم ضرور ہو جاتا ہے۔

’لوگوں کو یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ سرطان کا مقابلہ کرنے کے لیے اس کی افزائش کے لیے درکار عوامل کو کم کیا جا سکتا ہے۔‘

اسی بارے میں