بھارت میں 30 ویب سائٹس پر پابندی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

بھارت میں 30 سے زیادہ ویب سائٹس پر پابندی کا سرکاری فیصلہ عوام میں غم اور غصہ کا باعث بن رہا ہے۔

بھارت کے مواصلات کے محکمے نےں جہادیوں کی کارروائیوں کا سدِباب کرنے کے لیے ان ویب سائٹس پر پابندی عائد کرنے کا حکم دیا تھا۔

شدید عوامی دباؤ کے بعد چار ویب سائٹس ’وبلی، ومیو، ڈیلی موشن اور گٹہب‘ پر سے پابندی اٹھالی گئی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ باقی ویب سائٹس پر سے پابندی اٹھالی جائے گی بشرط کہ انھوں نے تمام متعلقہ قوانین کی پاسداری کی۔

انڈین وزارتِ مواصلات اور انفارمیشن ٹیکانالوجی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بعض ملک دشمن گروہ بھارت کے نوجوانوں کو جہادی کارروائیوں میں حصہ لینے کے لیے اکسا رہے ہیں۔

اس بیان میں مزید کہا گیا کہ بنیادی طور پر تشویش اس بات پر ہے کہ اس ویب سائٹس پر کوئی مواد شائع کرنے کے لیے شناخت ظاہر کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

جن چار ویب سائٹس پر سے پابندی ہٹائی گئی ہے ان کے بارے میں خیال کیا جا رہا کہ انھوں نے حکومت کے ساتھ مل کر ان شکایات کو دور کر دیا ہے جو پابندی کا باعث بنی تھیں لیکن یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ انھوں نے کیا کیا ہے۔

ویب سائٹس کے کچھ صارفین کا کہنا ہے کہ وہ انھیں ابھی تک ان ویب سائٹس تک رسائی حاصل نہیں ہو رہی۔

بھارت میں قائم سینٹر آف انٹر نیٹ سوسائٹی کے پرنیش پرکاش کا کہنا ہے کہ کوئی بھی سمجھدار آدمی یہ دیکھ سکتا ہے کہ یہ ویب سائٹس دہشت گردی پر نہیں اکسا رہی تھیں۔

پابندی اٹھنے سے پہلے ومیو کی ترجمان نے کہا کہ ومیو کی یہ پالیسی ہے کہ وہ کسی بھی ایسی ویڈیو کی تشہیر نہیں کرتی جو دہشت گردی پر اکساتی ہو اور ایسی کسی ویڈیو کے بارے میں کوئی شکایت سامنے آئے تو اسے فوراً اتار لیا جاتا ہے۔

انٹر نیٹ استعمال کرنے والے بہت سے لوگوں کئی ویب سائٹس کے بند ہونے سے پریشان ہیں جن میں ’پیسٹ بن‘ نامی ویب سائٹ بھی شامل ہے۔ پیسٹ بن پر صارفین نام ظاہر کیے بغیر تحریریں شائع کر سکتے ہیں۔

بھارت کی حکومت کبھی کبھار ویب سائٹس پر پابندی لگاتی رہی ہے۔ سنہ 2012 میں 245 ویب سائٹس کو تشدد کے رجحان کو کم کرنے کے لیے بلاک کر دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں