زمین سے سب سے زیادہ مشابہت رکھنے والے سیارے کی دریافت

تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption نیا سیارہ ہماری زمین سے 475 نوری سال کے فاصلے پر ہے اور یہ نہیں معلوم کہ اس کی ساخت کیا ہے

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے نظام شمسی سے بہت دور آٹھ نئے سیارے دریافت کیے ہیں جن میں سے ایک کرہ زمین سے بہت زیادہ مشابہت رکھتا ہے۔

انھوں نے اسے ’زمین سے بہت مشابہت رکھنے والا انجان کرہ‘ قرار دیا ہے۔

ان آٹھوں سیاروں کو ناسا کی کیپلر خلائی دوربین کی مدد سے دریاف کیا گیا جس کے بعد اس طرح کے بیرونی سیاروں کی تعداد ایک ہزار سے زیادہ ہو گئی ہے۔ بیرونی سیاروں سے مراد وہ سیارے ہیں جو نظامِ شمسی سے باہر پائے جاتے ہیں۔

لیکن سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ان میں سے صرف تین ایسے ہیں جو اپنے محور والے ستارے سے اتنی دوری پر گردش کر رہے ہیں کہ وہاں زندگی کا وجود ممکن ہے، جبکہ ان میں سے ایک بطور خاص زمین کی طرح چٹانی سیارہ ہے، البتہ یہ زمین سے قدرے زیادہ گرم ہے۔

یہ انکشاف امریکہ میں جاری امریکی ماہرینِ فلکیات کی تنظیم کے اجلاس میں کیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ NASA
Image caption اس سے قبل ’کیپلر 186ایف‘ کو زمین سے سب سے زیادہ مشابہت رکھنے والا سیارہ اور زمین کا ’جڑواں سیارہ‘ کہا گیا تھا

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ سیارہ، جسے ’کیپلر 438 بی‘ نام دیا گیا ہے، وہ زمین سے ’کیپلر 186ایف‘ سے بھی زیادہ مشابہت رکھتا ہے، جسے پہلے زمین سے سب سے زیادہ مشابہت رکھنے والا سیارہ اور زمین کا ’جڑواں سیارہ‘ کہا گیا تھا۔

یہ نیا سیارہ زمین سے حجم میں 12 فیصد بڑا ہے، تاہم درجۂ حرارت کے لحاظ سے یہ زمین سے زیادہ قریب ہے۔ شاید وہ اپنے سورج سے 40 فی صد زیادہ گرمی حاصل کرتا ہے جتنا زمین اپنے سورج سے حاصل کرتی ہے۔

کیلی فورنیا میں واقع سیٹی انسٹی ٹیوٹ کے ڈاکٹر ڈوگ کالڈویل کا کہنا ہے کہ ’اگر ہم کیپلر 438 بی کی سطح پر ہوں تو وہ نسبتاً زیادہ گرم ہو گا۔‘

انھوں نے بتایا: ’یہ سیارہ ہمارے سورج سے نسبتاً ٹھنڈے ستارے کے گرد چکر لگاتا ہے ۔۔۔ اس لیے اس کا آسمان ہمارے آسمان سے زیادہ سرخ نظر آئے گا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ SPL
Image caption ’کیپلر 186ایف‘ کی خیالی تصویر کشی اس طرح کی گئی ہے

انھوں نے مزید کہا: ’اس کے بارے میں قریب سے جان پانا مشکل ہوگا کیونکہ یہ ہماری زمیں سے 475 نوری سال کے فاصلے پر ہے اور ہمیں یہ معلوم نہیں کہ یہ کس چیز کا بنا ہے۔‘

ڈاکٹر کالڈویل نے بی بی سی کو بتایا کہ ’کیپلر کی پیمائش اور ديگر پیمائشوں سے ہم یہ نہیں معلوم کر سکے کہ آیا ہمارے سیارے کی طرح وہاں بھی مچھلیوں والے سمندر اور پیڑ پودوں والے براعظم ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اگر ہم کچھ معلوم ہے تو وہ اس کا حجم ہے اور جو توانائی وہ اپنے سورج سے حاصل کر رہا ہے۔ اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ زمین ہی کے حجم کا ہے اور زمین کے برابر ہی توانائی حاصل کر رہا ہے۔‘

اسی بارے میں