چوہوں میں لچک دار امپلانٹس کا کامیاب تجربہ

امپلانٹ تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption لچک دار امپلانٹ کو انسانوں پر استعمال کرنے میں ابھی وقت لگے گا

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے مفلوج چوہوں کی ریڑھ کی ہڈی کے ساتھ ایک لچک دار امپلانٹ نصب کر کے انھیں چلنے پھرنے کے قابل بنا دیا ہے۔

ریڑھ کی ہڈی کی چوٹ میں امپلانٹس کی تحقیق نہایت کارگر ثابت ہوئی ہے لیکن ان ٹھوس امپلانٹس کی سختی کی وجہ سے ہڈی کے آس پاس کے ٹشوز کو نقصان پہنچتا ہے اور بالآخر یہ فیل ہو جاتے ہیں۔

لیکن اب ایکول پولی ٹیکنیک فیڈریل ڈی لاؤزان (ای پی ایف ایل) نے ایک ایسا لچک دار امپلانٹ تیار کیا ہے جو مہینوں کام کرتا ہے۔

ماہرین اسے ٹیکنالوجی کی دنیا میں انتہائی اہم پیش رفت کہہ رہے ہیں۔

ریڑھ کی ہڈی بالکل ایک موٹروے کی طرح ہے جس میں کاروں کی بجائے الیکٹرک سگنل اوپر نیچے حرکت کرتے رہتے ہیں۔

ریڑھ کی ہڈی میں چوٹ سے اکثر فالج ہو جاتا ہے کیونکہ الیکٹرک سگنل بھیڑ میں پھنس جاتے ہیں اور دماغ سے ٹانگوں تک نہیں پہنچ پاتے۔

انھی تحقیق کاروں کی تحقیق کے مطابق چوہوں کی ریڑھ کی ہڈی میں چوٹ کے بعد جب ان میں کیمیائی اور برقی ہیجان پیدا کیا گیا تو چوہے زمین پر بھاگنے لگے، سیڑھیاں چڑھنے لگے اور یہاں تک کہ رکاوٹیں عبور کرنے لگ گئے۔

لیکن اس کے لیے وائرڈ الیکٹروڈز درکار تھے جو سیدھا ریڑھ کی ہڈی میں جاتے تھے اور یہ کوئی طویل مدتی آپشن نہیں تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption جب مفلوج چوہوں کی ریڑھ کی ہڈی میں لچک دار امپلانٹ لگایا گیا تو وہ بھاگنے دوڑنے لگے

امپلانٹس اگلا قدم ہیں لیکن اگر وہ لچک دار نہ ہوں تو ان سے رگڑ پیدا ہوتی ہے، جس سے انفیکشن ہو جاتا ہے اور وہ ٹھیک طریقے سے کام نہیں کرتے۔

جریدے سائنس کے مطابق حالیہ ایجاد ایک ایسا امپلانٹ ہے جو جسم کے ساتھ حرکت کرتا ہے اور کیمیائی اور برقیاتی ہیجان پیدا کرتا رہتا ہے۔

جب اسے مفلوج چوہوں پر ٹیسٹ کیا گیا تو وہ حرکت کرنے لگے۔

اس تحقیق پر کام کرنے والے سائنس دانوں میں سے ایک پروفیسر سٹیفنی لاکور نے امپلانٹ کو عام افراد کے لیے استعمال کرنے کے بارے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ایسا کل نہیں ہو گا، ہم نے مخصوص مواد تیار کیا ہے جس کے لیے منظوری کی ضرورت ہے اور اس میں وقت لگے گا۔

’لیکن ہم یقیناً سمجھتے ہیں کہ یہ انسانوں کے لیے ایک مضبوط اور قوی ٹیکنالوجی ہے۔‘

امپلانٹ لچکدار سیلیکون اور اس کی وائرنگ ’مائکروکریکڈ‘ گولڈ یعنی انتہائی مضبوط سونے سے تیار کی جاتی ہے۔

عام وائرنگ لمبی یا چوڑی نہیں ہوتی لیکن اس کی سطح پر چھوٹے چھوٹے کٹ اسے لچکدار بنا دیتے ہیں۔

ان امپلانٹس نے جانوروں میں دو ماہ کام کیا ہے جن کے متعلق تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ وہ ریڑھ کی ہڈی کی چوٹ کی تاریخ میں سب سے لمبے امپلانٹ ہیں۔

اسی بارے میں