’سیکھنے کے لیے نیند بہت ضروری ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ بچوں کی زندگی کے پہلے سال میں نیند کے کردار کے بارے میں معلومات ’انتہائی کم‘ ہیں

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ چھوٹے بچوں کے سیکھنے اور یادداشت کی کلید لمبی نیند ہے۔

12 ماہ سے کم عمر بچوں پر کیے جانے والے تجربات سے معلوم ہوا کہ اگر بچے نئے کام کرنے کے بعد لمبی نیند نہ سوئیں تو وہ ان کاموں کو یاد نہیں رکھ پاتے۔

یونیورسٹی آف شیفیلڈ کے سائنس دانوں نے خیال ظاہر کیا ہے کہ کوئی نئی چیز سیکھنے کا بہترین وقت سونے سے تھوڑی دیر پہلے ہوتا ہے اور انھوں نے رات کے وقت پڑھنے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔

<span >نیند اور یادداشت کے درمیان تعلق ہے

ماہرین کا کہنا ہے کہ نیند عمر کے ابتدائی برسوں میں زیادہ اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔

بچے بڑوں کے مقابلے پر زیادہ سوتے ہیں۔ تاہم سائنس دانوں نے کہا ہے کہ بچوں کی زندگی کے پہلے سال میں نیند کے کردار کے بارے میں معلومات ’انتہائی کم‘ ہیں۔

سائنس دانوں نے چھ سے 12 ماہ کے بچوں کو ہاتھوں پر پہننے والے پتلوں کی مدد سے کچھ کھیل سکھائے۔ یہ سیکھنے کے بعد آدھے بچے چار گھنٹوں کے اندر اندر سوئے جب کہ دوسرے نصف یا تو سوئے ہی نہیں یا پھر آدھے گھنٹے سے کم وقت کے لیے سوئے۔

اگلے دن بچوں سے کہا گیا کہ وہ پچھلے دن سیکھا گیا کھیل دہرائیں۔ اس تحقیق کے نتائج پروسیڈنگز آف دا نیشنل اکیڈمی آف سائنسز میں شائع ہوئے، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ گہری نیند سونا سیکھنے کے لیے بہت اہم ہے۔

جو بچے جو خاصی دیر سوئے تھے، وہ ڈیڑھ کھیل دہرانے کے اہل تھے۔ اس کے مقابلے پر جو بچے سیکھنے کے بعد نہیں سوئے، یا کم دیر کے لیے سوئے، وہ سب کچھ بھول گئے تھے۔

یونیورسٹی آف شیفیلڈ کی ڈاکٹر جین ہربرٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’جو بچے سیکھنے کے بعد سو گئے تھے، انھوں نے کھیل اچھی طرح سیکھ لیا، لیکن جو نہیں سوئے، وہ بالکل نہیں سیکھ سکے۔‘

انھوں نے کہا کہ عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ سیکھنے کے پوری طرح جاگا ہوا ہونا ضروری ہے، لیکن اس کی بجائے ’سونے سے قبل کے حالات سب سے زیادہ اہم ہیں۔‘

اس تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ بچوں کے ساتھ سونے سے پہلے کتابیں پڑھنا اور انھیں پڑھ کر سنانا کس قدر اہم ہے۔

گذشتہ برس ایک تحقیق میں نیند کے دوران یادداشت کے مکینزم پر روشنی ڈالی گئی تھی۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ نیند کے دوران دماغی خلیوں کے درمیان نئی کڑیاں تشکیل پاتی ہیں۔

یونیورسٹی آف سرے کے نیند کے ماہر پروفیسر ڈیرک جان جک نے چھوٹے بچوں کو زیادہ سونا چاہیے، تاہم ’اس کا مطلب یہ نہیں کہ تربیت کے دوران ہی اونگھا جائے۔‘

اسی بارے میں