’2014 گرم ترین سال تھا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستانی بچوں نے گرمی سے بچنے کے لیے نہروں کا رخ کیا

امریکی سائنس دانوں نے کہا ہے کہ 2014 اوسط سے 0.68 ڈگری سینٹی گرم تھا اور یوں جب سے ریکارڈ رکھا جا رہا ہے، یہ گرم ترین سال بن گیا ہے۔

اس تحقیق کا مطلب یہ ہے کہ جب سے ریکارڈ رکھا جا رہا ہے، اس کے بعد سے 15 میں سے 14 گرم ترین سال 21ویں صدی میں واقع ہوئے ہیں۔

یہ تحقیق جمعے کے روز امریکی خلائی ادارے ناسا اور سمندروں اور کرۂ ہوائی کے ادارے نووا کے سائنس دانوں نے شائع کی ہے۔

گذشتہ ماہ عالمی موسمیاتی ادارے نے ابتدائی اعداد و شمار نشر کیے تھے جن سے ظاہر ہوتا تھا کہ گذشتہ 12 ماہ ریکارڈ ساز ثابت ہوں گے۔

درجۂ حرارت کا سائنسی آلات کی مدد سے حاصل کردہ ریکارڈ 19ویں صدی کے اواخر سے اکٹھا کیا جا رہا ہے۔

ناسا کے سائنس دان گیون شمٹ نے کہا: ’یہ گرم عشروں کے سلسلے میں گرم سالوں کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’کسی انفرادی سال کی درجہ بندی موسمی تغیر کی وجہ سے متاثر ہو سکتی ہے، لیکن طویل مدت رجحان کی وجہ انسانوں کی جانب سے خارج کردہ گرین ہاؤس گیسیں ہی قرار دی جا سکتی ہیں۔‘

ناسا اور نووا عالمی درجۂ حرارت کے تین میں سے دو سیٹ حاصل کرتے ہے، جب کہ تیسرا سیٹ برطانیہ کے محکمۂ موسمیات کے پاس ہے۔

عالمی موسمیاتی ادارے نے دسمبر میں یہ تینوں سیٹ استعمال کر کے ان کی مدد سے ابتدائی اعداد و شمار جاری کیے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر شمٹ نے کہا کہ دو سیٹوں کے نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ ’زیادہ تر گرمائش سمندروں میں ہے۔‘

انھوں نے کہا: ’یہ تو صاف ظاہر ہے کہ یہ سال سمندروں میں گرم ترین تھا، البتہ خشکی پر یہ گرم ترین نہیں تھا۔ لیکن جب دونوں ریکارڈوں کو ملایا گیا تو یہ گرم ترین سال نکلا۔‘

دونوں ایجنسیوں کی رپورٹ کی پیشکش کے دوران نووا کے ڈائریکٹر ٹامس کارل نے کہا کہ ’اکثر ڈیٹا ایسا ہے جس میں یورپ کے کئی حصے اور ہر سمندر کے کئی حصے گرم ترین تھے۔‘

آسٹریلیا میں بھی ریکارڈ ساز درجۂ حرارت دیکھنے میں آیا۔

تاہم ڈاکٹر کارل نے کہا کہ دنیا کے تمام حصوں میں درجۂ حرارت معمول سے زیادہ بلند نہیں تھا:

’دراصل بعض علاقے ایسے تھے جو اوسط سے سرد تھے، خاص طور پر امریکہ کے کچھ حصے۔ لیکن اس کے مقابلے پر سمندر اور خشکی کے بہت سے خطے ایسے تھے جو معمول کے درجۂ حرارت کے مقابلے پر کہیں زیادہ گرم تھے۔

’جب آپ یہ تمام اعداد و شمار جمع کریں تو آپ کو یہ سال ریکارڈ رکھنے کے بعد سے گرم ترین ملے گا۔‘

آج کل زمین کی سطح پر موجود آلات کے علاوہ مواصلاتی سیارے بھی زمین کے درجۂ حرارت پر نظر رکھتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ماحولیاتی تپشی کے باعث مختلف اقسام کے بدترین موسمی حالات پیدا ہو سکتے ہیں، جن میں طوفان، غیرمعمولی بارشیں، سیلاب اور خشک سالی شامل ہیں

اس سال گرم موسم کے باعث دنیا بھر میں کئی ریکارڈ ساز واقعات رونما ہوئے:

  • ترکی کے بعض علاقوں میں اوسط سے چار گنا زیادہ بارش ہوئی۔
  • مراکش کے شہر کلمیم صرف چار دنوں میں اتنی بارش برسی جتنی پوری سال میں ہوا کرتی تھی۔
  • مغربی امریکہ، چین اور براعظم جنوبی امریکہ کے کئی حصے متواتر خشک سالی کی زد میں رہے۔
  • مغربی جاپان میں ریکارڈڈ تاریخ کی سب سے زیادہ بارش ہوئی۔

لندن سکول آف اکنامکس کے موسمیاتی تبدیلی پر تحقیق کے انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر باب وارڈ نے کہا: ’آج سامنے آنے والا یہ نیا عالمی ریکارڈ درجۂ حرارت اس مفروضے کی مکمل طور پر نفی کرتا ہے کہ ماحولیاتی تپش تھم گئی ہے۔

’دنیا بھر سے اس بات کے حق میں شواہد اکٹھے ہو رہے ہیں کہ زمین گرم ہوتی جا رہی ہے اور کرۂ ہوائی میں گرین ہاؤس گیسوں کی وجہ سے موسم تبدیل ہو رہا ہے۔‘

تاہم لوگوں کی ایک چھوٹی سی اقلیت کا خیال ہے کہ درجۂ حرارت میں تبدیلی کی وجہ انسانی سرگرمیاں نہیں ہیں۔ بعض سیاست دان بھی اسی نظریے کے حامل ہیں، جس کی وجہ سے وہ ایسی پالیسیاں اختیار نہیں کرتے جن سے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی آ سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP Getty
Image caption کوئی سیاست دان ان بےپناہ سائنسی شواہد کو نظرانداز نہیں کر سکتا اور نہ ہی کہہ سکتا ہے کہ عالمی تپش محض ایک دھوکہ ہے۔ موسم میں تبدیلی آ رہی ہے اور ماحولیاتی تبدیلی کے بین الحکومتی پینل اور دنیا بھر کے سائنسی اداروں اور تنظیموں نے یہی نتیجہ اخذ کیا ہے کہ انسانی سرگرمیاں، خاص طور پر فاسل ایندھن کا جلانا اور جنگلات کا خاتمہ اس کی بنیادی وجوہات ہیں

تاہم باب وارڈ نے کہا: ’کوئی سیاست دان ان بےپناہ سائنسی شواہد کو نظرانداز نہیں کر سکتا اور نہ ہی کہہ سکتا ہے کہ عالمی تپش محض ایک دھوکہ ہے۔

’موسم میں تبدیلی آ رہی ہے اور ماحولیاتی تبدیلی کے بین الحکومتی پینل اور دنیا بھر کے سائنسی اداروں اور تنظیموں نے یہی نتیجہ اخذ کیا ہے کہ انسانی سرگرمیاں، خاص طور پر فاسل ایندھن کا جلانا اور جنگلات کا خاتمہ اس کی بنیادی وجوہات ہیں۔‘

برطانیہ کے جنگلی حیات کے ادارے کی ماحول اور توانائی کے شعبے کی سربراہ ایما پِنچ بیک نے کہا کہ اس بات کے اشارے پائے جاتے ہیں کہ بین الاقوامی برادری مضر گیسوں کے اخراج میں کمی لانے پر رضامند ہو جائے گی:

’اب بھی وقت ہے کہ گیسوں کا اخراج کم کر کے عالمی درجۂ حرارت کو دو ڈگری سینٹی گریڈ سے کم رکھا جائے۔

’یہ سال برطانیہ اور دوسرے ملکوں میں سیاست دانوں کے لیے قیادت ظاہر کرنے کا اور عالمی معاہدوں کی پاسداری کا سال ہے، تاکہ ماحولیاتی تبدیلی کے بدترین اثرات سے بچا جا سکے۔‘

اس سال کے آخر میں پیرس میں اقوامِ متحدہ کا ماحولیاتی سربراہی اجلاس ہو گا جس میں توقع ہے کہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو کم کرنے کے لیے لائحۂ عمل ترتیب دیا جائے گا۔

اسی بارے میں