اُسے سب دیکھا، سنا لگتا ہے

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption انگریزی کی اصطلاح ’ڈیجا وُو‘ دراصل ایک افرانسیسی اصطلاح کا ترجمہ ہے جس کا مفہوم ہے ’پہلے دیکھا ہوا۔‘

سائنسدانوں کا خیال ہے کہ ایک 23 سالہ برطانوی نوجوان جسے ہر وقت ’ڈے جا وُو‘ کی کیفیت کا سامنا رہتا ہے اس کی وجہ نوجوان کی مستقل بے چینی ہو سکتی ہے۔

ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ سائنسدانوں نے کسی شخص میں ’ڈیجا وُو‘ کی کیفیت کا سبب بے چینی بتائی ہو۔ مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر ’ڈیجا وُو‘ ہے کیا چیز اور یہ کیفیت ہوتی کیوں ہے؟

’ڈیجا وُو‘ کی کیفیت سے ہم سب واقف ہیں، یعنی ایسی کیفیت جب ہمیں لگتا ہے کہ ہم یہ کام پہلے بھی کر چکے ہیں، یہ چیز پہلے بھی دیکھ چکے ہیں، لیکن آپ کا شعور بتاتا ہے کہ ایسا نہیں ہوا ہے۔

انگریزی کی اصطلاح ’ڈیجا وُو‘ دراصل ایک افرانسیسی اصطلاح کا ترجمہ ہے جس کا مفہوم ہے ’پہلے دیکھا ہوا۔‘

تحقیق کے مطابق ہم میں سے دو تہائی لوگوں کو زندگی میں ایک مرتبہ ’ڈیجا وُو‘ ضرور ہوتا ہے، تاہم ابھی تک ہمیں پوری طرح معلوم نہیں کہ یہ کیفیت ہوتی کیوں ہے۔

برطانوی شخص کی مستقل ’ڈیجا وُو‘ کی کیفیت کا مطالعہ کرنے والی برطانیہ، فرانس اور کینڈا کے ماہرین کی ٹیم کا کہنا ہے کہ اس کی ایک بڑی وجہ مذکورہ شخص کی بے چینی ہو سکتی ہے۔

اس شحض کی ’ڈیجا وُو‘ کی کیفیت اس قدر زیادہ ہے کہ اس نے ٹی وی دیکھنا، ریڈیو سننا اور اخبار پڑھنا چھوڑ دیا ہے کیونکہ اسے لگتا ہے کہ وہ یہ سب پہلے کر چکا ہے، ٹی وی ریڈیو کے پروگرام سن چکا ہے اور یہ خبریں بھی پڑھ چکا ہے۔

تحقیقی ٹیم میں شامل ڈاکٹر کرس مولن کہتے ہیں کہ برطانوی شخص بہت عرسے سے ذہنی دباؤ اور بے چینی کی کیفیت سے دوچار رہا تھا اور اپنی یونیورسٹی کے دنوں میں اس نے ایک مرتبہ ایل سی ڈی کا نشہ بھی کیا تھا، لیکن وہ باقی ہر لحاظ سے صحت مند تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اس کیس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ’ڈیجا وُو‘ کی کیفیت اور بے چینی کے درمیان کوئی تعلق پایا جاتا ہے

’اس شخص کا معاملہ اس لحاظ سے بہت مختلف تھا کہ وہ ایک صحت مند جوان شخص تھا لیکن اسے ہر وقت لگتا تھا کہ اس کا دماغ اس کے ساتھ کوئی کھیل کرتا رہتا ہے۔‘

تاہم اس کے باوجود جب بھی اس شخص کے دماغ کا سکین کیا جاتا تو وہ بالکل نارمل نکلتا، جس سے ماہرین کو لگا کہ اس کا مسئلہ دماغی یا اعصابی نہیں بلکہ نفسیاتی ہے۔

ڈاکٹر مولن کے بقول ’ اگرچہ اس کیس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ’ڈیجا وُو‘ کی کیفیت اور بے چینی کے درمیان کوئی تعلق پایا جاتا ہے، تاہم اس سے یہ سبق ضرور ملتا ہے کہ ہمیں اس سلسلے میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

انسانی یاد داشت کی دیگر بیماریوں کے برعکس ’ڈیجا وُو‘ زیادہ تر نوجوانوں کو ہوتا ہے۔

پروفیسر ایلن براؤن کا کہنا ہے کہ لوگوں کو پہلی مرتبہ ’ڈیجا وُو‘ کی کیفیت تقریباً چھ، سات برس کی عمر میں ہوتا ہے، تاہم 15 سے 25 سال کی عمر کے دوران یہ آپ کو زیادہ مرتبہ ہوتا ہے، اور پھر جوں جوں آپ بوڑھے ہوتے ہیں یہ کیفیت ختم ہو جاتی ہے۔

’ڈیجا وُو‘ ہوتا کیوں ہے

’ڈیجا وُو‘ سے متعلق کئی نظریات پائے جاتے ہیں۔

کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ زیادہ تر لوگ اس کیفیت کا شکار اس وقت ہوتے ہیں جب ان کے دماغ کی کوئی رگ بلاوجہ ہی ’پھڑک‘ اٹھتی ہے اور بالکل غیر متعلق خیالات کو آپس میں جوڑ دیتی ہے۔

کچھ ماہرین کہتے ہیں کہ یہ کیفیت آپ کے دماغ کے کسی پٹھے کے بلاوجہ سکڑنے سے پیدا ہوتی ہے، جیسے آپ کی آنکھ بلاوجہ پھڑکتی ہے۔ لگتا ہے کہ اس کا تعلق آپ کے دماغ کے اس حصے سے جڑا ہوتا ہے جو آپ کی یاداشتوں سے متعلق ہے، جس کے ذریعے آپ ایک جیسی دو چیزوں یا ایک جیسے دو واقعات میں تعلق جوڑتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ’ڈیجا وُو‘ کا معاملہ ایسا ہے کہ ہمیں اس کی زیادہ وضاحت نہیں کرنی چاہیے۔

ایک تیسرے نظریے کے مطابق ’ڈیجا وُو‘ ایک قدرتی عمل ہے اور یہ اس وقت ہوتا ہے جب آپ کوئی ایسی چیز یا واقعہ دیکھتے ہیں جس سے ملتی جلتی چیز یا واقعے کا تجربہ آپ پہلے کر چکے ہوتے ہیں اور اس کی یاد آپ کے دماغ کے کسی خانے میں محفوظ ہوتی ہے۔ مثلاً کسی خاص کمرے کی ساخت یا کسی کمرے میں مخلتف چیزوں کی ترتیب دیکھ کر آپ کو لگتا ہے کہ آپ یہ کمرہ کبھی پہلے بھی دیکھ چکے ہیں۔

ہمیں معلوم نہیں کہ دنیا میں برطانوی شخص جیسے اور کتنے لوگ ہیں جو ایک عرصے سے مستقل’ڈیجا وُو‘ سے دوچار ہیں تاہم ڈاکٹر مولن کہتے ہیں کہ انھوں نے اس شخص جیسے کیس پہلے بھی دیکھے ہیں۔ یہاں تک کہ کچھ لوگوں نے ڈاکٹر مولن کا کہا کہ وہ ان سے پہلے بھی مل چکے ہیں، حالانکہ ایسا کبھی نہیں ہوا تھا۔

خوبصورت راز

’کبھی کبھی لوگ مجھ سے ایسے ملتے ہیں جیسے وہ مجھے پہلے سے جانتے ہوں۔ ان میں سے کچھ لوگ دنیا کے دوسرے سرے پر بیٹھے مجھ سے پہلی مرتبہ ’سکائیپ‘ پر بات کر رہے تھے، لیکن اس کے باوجود انھیں محسوس ہو رہا تھا کہ ہم پہلے مل چکے ہیں۔

یونیورسٹی آف شفیلڈ سے منسلک ڈاکٹر کرسٹین ویلز کہتی ہیں کہ جب سے برطانوی شخص کی کہانی اخباروں میں آئی ہے، زیادہ سے زیادہ لوگ منظر عام پر آ رہے ہیں او ان کا کہنا ہے کہ انہیں بھی ’ڈیجا وُو‘ بہت ہوتا ہے۔

ڈاکٹر کرسٹین ویلز کا خیال بھی یہی ہے کہ ہمیں اس سلسلے میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

لیکن کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ’ڈیجا وُو‘ کا معاملہ ایسا ہے کہ ہمیں اس کی زیادہ وضاحت نہیں کرنی چاہیے۔

’میں ایسے کئی لوگوں کو جانتی ہوں جو ’ڈیجا وُو‘ کو مانتے ہی نہیں، جبکہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ ایک قسم کا روحانی تجربہ ہوتا ہے۔‘

اور کچھ لوگ کہتے ہیں کہ مجھے اس کی زیادہ وضاحت نہیں کرنی چاہیے کیونکہ ’قوس قزح کی وضاحت سے اس کی خوبصورتی تباہ ہو جاتی ہے۔‘