’پی ٹی ایس ڈی انسانی تہذیب جتنی پرانی بیماری‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پوسٹ ٹرومیٹک سٹریس ڈس آرڈر پہلی مرتبہ جنگِ ویتنام کے بعد سامنے آیا تھا

برطانوی محققین کا کہنا ہے کہ 1300 قبل مسیح میں بھی لوگوں میں ’پوسٹ ٹرومیٹک سٹریس ڈس آرڈر‘ کے ثبوت ملے ہیں۔

اس بات کا دعویٰ اینگلیا رکسن یونیورسٹی کی ایک ٹیم نے قدیم عراق یا میسوپوٹیمیا سے ملنے والی تحریوں کے تراجم کا جائزہ لینے کے بعد کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس زمانے کے فوجیوں کے پاس ’جنگ میں مدمقابل آنے والے دشمن فوجیوں کے بھوتوں کی آمد‘ آج کل کے پی ٹی ایس ڈی کے مترادف ہی ہے۔

محققین نے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ یہ بیماری انسانی تہذیب کے آغاز سے ہی موجود ہے۔

برطانوی وزارتِ دفاع کے سابق مشیر اور ماہرِ نفسیات پروفیسر جیمی ہیکر ہیوز کے مطابق پی ٹی ایس ڈی کا پہلا ذکر یونانی مورخ ہیروڈوٹس سے منسوب کیا جاتا ہے۔

اس نے 490 قبل مسیح میں میراتھن کی جنگ میں اپیزیلس نامی جنگجو کے بارے میں لکھا تھا کہ ’ اسے کسی نے چھوا تک نہیں لیکن اچانک اس کی دونوں آنکھوں کی بینائی چلی گئی۔‘

تاہم اب پروفیسر ہیوز کی رپورٹ کے مطابق پی ٹی ایس ڈی کے ثبوت میسوپوٹیمیا کے آسیریئن خاندان کے دور میں ملتے ہیں جو کہ 1300 سے 609 قبل مسیح کے دوران تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption عراق اور افغانستان میں امریکی فوجی مہمات کے دوران بہت سے فوجی اس بیماری کا شکار ہوئے

اس دور میں مرد ایک سال سڑکوں،پلوں اور دیگر عمارات کی تعمیر میں صرف کرنے کے بعد ایک سال میدان جنگ میں گزارتے تھے اور پھر انھیں ایک برس کے لیے اپنے خاندان کے پاس واپس جانے کا موقع ملتا تھا اور یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہتا تھا۔

پروفیسر ہیوز نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ ’اس زمانے میں جنگ کے بعد کی علامات واضح طور پر وہی ہیں جنھیں ہم پی ٹی ایس ڈی کی علامات کہتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’انھوں نے بھوتوں کو خود سے بات کرتے سنا اور دیکھا جو ان لوگوں کے بھوت تھے جنھیں انھوں نے میدانِ جنگ میں مارا تھا۔ آج کے جدید دور کا وہ فوجی جو دوبدو جنگ لڑا ہو بالکل یہی تجربہ کرتا ہے۔‘

پوسٹ ٹرومیٹک سٹریس ڈس آرڈر پہلی مرتبہ جنگِ ویتنام کے بعد سامنے آیا تھا جبکہ پہلی جنگ عظیم میں اسے ’شیل شاک‘ یا میدانِ جنگ کا دھچکا کہہ کر نظرانداز کردیا گیا تھا۔

پروفیسر ہیوز کا کہنا ہے کہ ’جب سے کوئی تہذیب ہے اور جب سے جنگ ہو رہی ہے، پوسٹ ٹرامیٹک علامات موجود ہیں۔ یہ 21ویں صدی کی چیز نہیں ہے۔‘