’سونے کا وقت کھلاڑیوں کی کارکردگی کے لیے اہم‘

Image caption یونیورسٹی آف برمنگھم کی ٹیم نے ایک دن کے دوران ان کھلاڑیوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا

برطانوی محققین کا کہنا ہے کہ انسانی جسم کے اندر موجود قدرتی گھڑی اس کے کھیلوں میں حصہ لینے کی صلاحیت پر ڈرامائی طور پر اثر انداز ہوتی ہے۔

ان کے مطابق یہ اندرونی گھڑی کسی کھلاڑی کے اولمپک طلائی جیتنے کے امکانات تبدیل کر سکتی ہے۔

یونیورسٹی آف برمنگھم کی ٹیم نے ایک دن کے دوران ان کھلاڑیوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا۔

محققین کا کہنا ہے کہ وہ اس بات کی وضاحت کر سکتے ہیں کہ ہسپانوی ٹیمیں یورپی فٹبال میں زیادہ کامیاب کیوں ہیں۔

محققین کے مطابق انسان کے اندرونی جسم کی یہ گھڑی اس کی تمام چیزوں کو کنٹرول کرتی ہے۔

سہ پہر کے وقت بعض کھیلوں کی کارکردگی عروج پر ہوتی ہے، تاہم سائنسی جریدے بیالوجی میں چھپنے والی اس تحقیق کے مطابق کھلاڑیوں کے سونے کی عادات کا ان پر بہت زیادہ اثر ہوتا ہے۔

محققین نے ہاکی کی 20 خواتین کھلاڑیوں سے 20 میٹر کے فاصلے کو مختلف دورانیوں میں عبور کرنے کے لیے کہا۔ ان 20 خواتین کھلاڑیوں نے صبح سات بجے سے لے کر رات دس بجے کے دوران چھ مختلف اوقات میں یہ مشق کی۔

اس مشق کے نتائج کے مطابق سہ پہر کے وقت ان کھلاڑیوں کی کارکردگی زیادہ بہتر رہی، تاہم سائنس دانوں نے الگ الگ صبح، دوپہر اور شام کے اوقات میں بھی ان کی کارکردگی کا جائزہ لیا۔

اس تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر رونالڈ برینڈسٹیٹر نے بی بی سی نیوز ویب سائٹ کو بتایا کہ ایتھلیٹوں اور کوچوں کو اس سے بہت زیادہ فائدہ ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اولمپیک کے دوران پہلی اور چوتھے نمبر پر آنے والے ایتھلیٹوں کی کارکردگی میں ایک فیصد کا فرق ہوتا ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق انسان کے اندرونی جسم کی اس گھڑی میں رد و بدل کیا جا سکتا ہے۔

ڈاکٹر رونالڈ برینڈسٹیٹر کے مطابق انسان کے اندرونی جسم کی اس گھڑی نے یورپی فٹ بال اور چیمپئنز لیگ کے دوران انگلینڈ کے کھلاڑیوں کی کارکردگی میں اہم کردار ادا کیا۔

اسی بارے میں