بی ایم ڈبلیو نے گاڑیوں کا سکیورٹی ’سافٹ وئیر‘ درست کر لیا

تصویر کے کاپی رائٹ APE
Image caption ابھی تک کوئی گاڑی ہیک تو نہیں ہوئی تاہم بی ایم ڈبلیو کے سوفٹ وئیر کی اس خامی کی نشاندہی جرمنی کی موٹر اسوسییشن ’اے ڈی اے سی‘ نے کی ہے ۔

گاڑیاں بنانے والی بین الاقوامی کمپنی بی ایم ڈبلیو نے ایک ’سافٹ وئیر‘ جس میں خرابی کے باعث 22 لاکھ گاڑیاں ہیکرز کے رحم و کرم پر تھیں اب ایک ’سکیورٹی پیچ‘ کے ذریعےدرست کر لیا ہے ۔

یہ خرابی ان گاڑیوں میں پیدا ہوئی جن میں بی ایم ڈبلیو کا ’کنکٹڈ ڈرائیو‘ سافٹ وئیر فٹ کیا گیا تھا جو ’آن بورڈ‘ سم کارڈ استعمال کرتا ہے ۔ متاثر ہونے والی گاڑیوں میں رولز رائس اور منی کے ماڈل بھی شامل ہیں ۔

بی ایم ڈبلیو کا کہنا ہے کہ یہ سافٹ وئیر دروازوں کے لاک، ائیر کنڈشننگ اور ٹریفک اپڈیٹس کے لیے استعمال ہوتا ہے اور اس سے گاڑی کی بریکس اور سٹیئرنگ وغیرہ متاثر نہیں ہوتے ۔

ابھی تک کوئی گاڑی ہیک تو نہیں ہوئی تاہم سوفٹ وئیر کی اس خامی کی نشاندہی جرمنی کی موٹر ایسوسی ایشن ’اے ڈی اے سی‘ نے کی ہے۔

’اے ڈی اے سی‘ کے ماہرین کی تحقیقات کے مطابق گاڑیاں ایک جالی فون نیٹ ورک کے ذریعے رابطے کی کوشش کر رہی تھیں جس کے باعث ہیکرز کے لیے سِم کے ذریعے چلنے والی کسی بھی چیز کا کنٹرول سنبھالنا ممکن تھا۔

بی ایم ڈبلیو کے مطابق یہ ’سکیورٹی پیچ‘ خود کار طریقے سے انسٹال ہو جائے گا تاہم اگر کسی کی گاڑی میں یہ نیا سافٹ وئیر موبائل فون سگنل کی عدم موجودگی کے باعث نہیں انسٹال ہوا تو وہ اپنی گاڑی کے مینیو سے ’اپ ڈیٹ سروسز‘ کے ذریعے انسٹال کر سکتے ہیں ۔

اسی بارے میں