لائبیریا میں ایبولا ویکسین کے تجربے کا ’آغاز‘

Image caption لائبیریا میں ایبولا کے مریضوں کی تعداد میں کمی دیکھی گئی ہے

لائبیریا میں ایبولا کے مہلک وائرس کے خلاف مدافعت پیدا کرنے والی تجرباتی ویکسین کا پہلی مرتبہ بڑے پیمانے پر استعمال شروع کیا جا رہا ہے۔

سائنسدان اس مہم کے دوران 30 ہزار رضاکاروں کو یہ ویکسین دیں گے جن میں ایبولا کے مریضوں کا علاج کرنے والے طبی کارکن بھی شامل ہیں۔

مغربی افریقہ میں ایبولا سے اب تک ساڑھے آٹھ ہزار سے زیادہ افراد مر چکے ہیں اور ان میں سے زیادہ تر کا تعلق گنی، لائبیریا اور سیئیرالیون سے تھا۔

صرف لائبیریا ہی میں 21 ہزار سے زیادہ لوگوں میں اس وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ یہاں ہلاک شدگان کی تعداد 3600 ہے۔

پیر کو شروع ہونے والے تجربے کے دوران رضاکاروں کے جسم میں ایبولا کا وائرس معمولی مقدار میں داخل کیا جائے گا تاکہ جسم کا مدافعتی نظام اس کے خلاف کام شروع کر سکے۔

اس کے بعد ان افراد کے جسم میں ویکسین داخل کی جائے گی لیکن یہ دوا تاحال تجرباتی مراحل میں ہے اور حتمی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ یہ ایبولا کے خلاف تحفظ دے گی یا نہیں۔

لائبیریا میں موجود بی بی سی کے مارک ڈوئل کا کہنا ہے کہ سائنس دان جانتے ہیں کہ اگر یہ تجربہ کامیاب رہا تو مقامی آبادی کے ساتھ کام کرنا کتنا اہم ثابت ہو گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سائنسدان اس مہم کے دوران 30 ہزار رضاکاروں کو یہ ویکسین دیں گے

مقامی نرسوں کو ان رضاکاروں کی نگرانی کی خصوصی تربیت دی جا رہی ہے جنھیں یہ تجرباتی دوا دی جائے گی۔

خیال رہے کہ لائبیریا میں ایبولا کے مریضوں کی تعداد میں کمی دیکھی گئی ہے اور حالیہ چند ماہ میں صرف ایک شخص میں اس وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

یہ تجرباتی ویکسین امریکہ کے قومی ادارہ برائے صحت اور برطانوی کمپنی گلیکسو سمتھ کلائن (جی ایس کے) نے مل کر تیار کی ہے۔

جی ایس کے کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر ایبولا سے بچاؤ کی ویکسین کی 300 خوراکیں پہنچائی گئی ہیں۔

لائبیریا بھجوانے سے قبل مالی، سوئٹزرلینڈ، امریکہ اور برطانیہ میں اس ویکسین کا تجربہ 200 صحت مند رضاکاروں پر کیا گیا اور کمپنی کے مطابق اب تک اس کے مثبت نتائج آئے ہیں۔

تاہم کمپنی کا کہنا ہے کہ وائرس سے بچاؤ کے لیے ویکسین کتنی موزوں ہے، یہ ایبولا سے متاثرہ ممالک کے ماہرین ہی بتا سکیں گے۔

اسی بارے میں