اب ڈرون گھروں میں چائے پہنچائیں گے

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption علی بابا آن لائن سٹور نے ڈرون کے ذریعے گاہکوں کو چائے کے پیکٹ پہنچائے

چین کی آن لائن شاپنگ کمپنی علی بابا نے ڈرون کے ذریعے اپنےگاہکوں کو سامان پہنچانے کا تجربہ شروع کیا ہے۔

علی بابا کے بلاگ کے مطابق یہ تجربہ تین دن تک جاری رہے گا اور ان گاہکوں کو سامان پہنچایا جائے گا جو ڈرون کی ایک گھنٹے کی فلائٹ کے دائرے میں آتے ہیں۔

اس وقت یہ سروس بیجنگ، شنگھائی اورگوانگژو میں تین دن کے لیے شروع کی گئی ہے۔

کمپنی کے مطابق ڈرون کی ٹیکنالوجی کے ذریعے گاہکوں کو ان کی خریدی ہوئیں اشیا تیزی سے پہنچائی جا سکتی ہیں۔

علی بابا کے علاوہ اس وقت ایمزون، گوگل اور یو پی ایس جیسی کمپنیاں نجی طور پر ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے سروس فراہم کرنے کے تجربات کر رہی ہیں۔

علی بابا اس وقت ڈرون کے ذریعے چائے کے پیکٹ گاہکوں کو فراہم کر رہا ہے اور ایک پیکٹ کا وزن 340 گرام تک ہے۔

کمپنی کے مطابق علی بابا کا تاباؤ یونٹ یہ تجربہ کر رہا ہے اور اس میں فروخت کرنے والی تیسری پارٹی، گاہک اور 450 دوکاندار شامل ہیں۔

ٹیک ان ایشیا کے پال بسکوؤف نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’اگرچہ یہ محدود پیمانے پر ہے لیکن تاباؤ اس حقیقی اشیا کو ان کے اصل صارفین کے پاس پہنچا رہی ہے اور یہ اس کے اپنی مغربی حریف کمپنیوں سے آگے کی بات ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ’حقیقت میں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کون سی کمپنی ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے اپنی سروس کو جاری رکھ پاتی ہے اور اس کے حصول میں ابھی کافی وقت لگے گا۔‘

سال 2013 میں شنگھائی میں ایک کمپنی نے ڈرون کے ذریعے کیک فراہم کرنا شروع کیے تھے لیکن جلد ہی ایوی ایشن حکام نے لائسنس نہ ہونے کو جواز بنا کر اس سروس کو بند کر دیا تھا۔

اسی طرح سے امریکہ میں ڈرون کے استعمال پر پابندی کی وجہ سے گوگل کو اپنی سروس کے تجربات آسٹریلیا میں کرنا پڑے تھے۔

علی بابا کے بابی جیک ما کے مطابق ان کا ہدف 2025 تک کمپنی کے آپریشز کو دنیا بھر میں دو ارب لوگوں تک پہنچانا ہے۔

اسی بارے میں