اسرائیل مخالف مضمون شیئر کرنے پر پادری پر پابندی

تصویر کے کاپی رائٹ Eileen Fleming
Image caption ریورینڈ سیزر مشرق وسطیٰ کے معاملات پر تبصرہ نہیں کریں جب تک وہ چرچ آف انگلینڈ کے ملازم ہیں

ایک پادری پر11 ستمبر کے حملوں کا الزام اسرائیل پر عائد کرنے والا مضمون سوشل میڈیا پر شیئر کرنے کی پاداش میں چھ مہینوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال کرنے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

ریورینڈ سٹیفن سیزر کو، جو برطانیہ میں سرے کے علاقے میں تعینات ہیں، اُن کے عہدے سے علیحدہ نہیں کیا جائے گا مگر انھیں اس پابندی کا سامنا کرنا ہو گا۔

پادری سٹیفن نے فیس بُک پر ایک مضمون شیئر کیا تھا جس میں یہ لکھا گیا تھا کہ سرکاری طور پر جو 11 ستمبر کا بیانیہ ہے وہ بہت ہی ’عجیب‘ ہے۔

بشپ آف گلڈفورڈ نے کہا کہ ’اُن کا صیہونی مخالف ایجنڈا اب ایک بوجھ بن گیا ہے‘ اور یہ کہ پادری نے مشرقِ وسطیٰ کے معاملات پر تبصرہ کرنے سے گریز کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

گلڈفورڈ کے ڈائیوسس نے ان تحقیقات کا آغاز اس وقت کیا تھا جب چرچ آف انگلینڈ کے ان پادری نے ایک مضمون کا لنک پوسٹ کیا تھا جس کا عنوان تھا ’11 ستمبر: اسرائیل نے کیا‘ اور اطلاعات کے مطابق لکھا کہ ’اس پر کئی سوالات اٹھتے ہیں۔‘

ڈاکٹر سیزر نے بعد میں اس لنک کو ہٹا دیا تھا اور اسے شیئر کرنے پر معذرت کی تھی۔

انہوں نے کمنٹ اسی ہفتے میں کیا جب اوشوٹز کی آزادی کی 70 سال پورے ہوئے تھے۔

ریورنڈ انڈریو واٹسن نے پیر کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’جو لوگ فلسطینیوں کی متوازن طریقے سے حمایت کرتے ہیں انہیں بھی سٹیفن کا یہ اقدام غیر مناسب اور غلط لگا جو کہ اب وہ خود تسلیم کرتے ہیں۔‘

بی بی سی کی مذہبی امور کی نامہ نگار کیرولائن وائٹ کے مطابق ڈاکٹر سیزر کے یہودی کمیونٹی کےرہنماؤں کے ساتھ اسرائیل اور صہیونیت پر بلاگز پوسٹ کرنے پر تنازعات کی ایک تاریخ ہے۔

اسی بارے میں