ناسا کے ’سپیس ویدر‘ مشن کا آغاز

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

دُور خلا کے موسم کے بارے میں جانچ کرنے کے لیے امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے فلوریڈا سے ڈیپ سپیس کلائمیٹ آبزرویٹری کو مدار میں بھیجنے کے لیے سپیس ایکس فیلکن راکٹ کو لانچ کیا ہے۔

اس سیٹیلائٹ کو امریکہ سورج کی نگرانی کے لیے استعمال کرے گا اور سورج سے نکلنے والی خطرناک تابکاری پر نظر رکھے گا۔

سورج سے نکلنے والی شعاؤں کے باعث اکثر زمین پر جی پی ایس ٹیکنالوجی اور بجلی کی ترسیل پر اثر پڑتا ہے۔

ریاست کولاراڈو میں موسمی پیشنگوئی کے ادارے ’سپیس ویدر پریڈیکشن سینٹر‘ کے ٹام برجر نے بتایا کہ ’سورج سے آنے والے تابکاری طوفان ہمارے مواصلاتی نظام میں تباہی پھیلا سکتے ہیں۔ یہ سیٹیلائٹ خلا میں ہمارے لیے ایک سونامی کا پتا لگنے والے نظام کی طرح کام کرے گا اور ایسے طوفان سے قبل ہمیں ایک گھنٹے تک کا اضافی نوٹس مل جائے گا۔‘

اس مشن کا تصور پہلی بار 90 کی دہائی میں آیا تھا لیکن تب اس کا مقصد خلا سے زمین کا ایک مسلسل منظر بھیجنا تھا اور اس وقت کے امریکی نائب صدر ایلگور کی بھرپور حمایت کی وجہ سے اسے رسمی طور پر ’گور سیٹ‘ کا نام دیا گیا تھا۔

ایلگور چاہتے تھے کہ سیٹلائیٹ خلا سے زمین کی مستقل ویڈیو سٹریم بھیج سکے تاکہ لوگوں میں اسے دیکھ کر جذبہ پیدا ہو، تاہم سنہ 2000 کے قومی انتخابات کے بعد نئی ریپبلکن انتظامیہ نے اس منصوبے کو روک دیا اور یہ آٹھ سال تک بند رہا۔

سنہ 2008 میں اس منصوبے کو ایک بار پھر شروع کرنے کا فیصلہ ہوا لیکن اس دفعہ اس کا مقصد مکمل طور پر تبدیل ہو گیا۔

یہ سیٹلائیٹ اب زمین کی مستقل ویڈیو سٹریم تو نہیں بھیجے گا لیکن اس سے لی گئی چار سے چھ تصویریں روزانہ ایک ویب سائٹ پر شائع ہوں گی جو عام لوگوں کے لیے دستیاب ہوں گی۔

سیٹلائیٹ زمین اور خلا کے درمیان شمسی توانائی کے تبادلے کا بھی جائزہ لے گا جس سے موسمی تبدیلی کے بارے میں اہم معلومات حاصل ہو گی۔

مشن کے لانچ کے موقعے پر ایلگور نے ایک بیان میں کہا کہ ’اس سیٹلائیٹ کی وجہ سے موسمی تبدیلی اور زمین کے بارے میں ہمارے علم میں مزید اضافہ ہو گا۔ اور اس سے بھیجی گئی تصاویر سے ہمیں احساس ہو گا کہ ہمارہ سیارہ کتنا نازک اور خوبصورت ہے، اور اس کا تحفظ کرنا ہمارا فرض بنتا ہے۔‘

اسی بارے میں