مریخ کے پراسرار ’بادلوں‘ کا معمہ حل کرنے کی کوششیں

Image caption سائنسدانوں کے مطابق گرد و غبار کو مریخ کی فضا میں دو سو کلومیٹر کی بلندی پر دیکھا گیا

سائنسدان مریخ پر ایک دائرے میں پھیلی ہوئی گرد و غبار کے پراسرار معمے کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ماہرین فلکیات نےگرد و غبار کو پہلی بار سال 2012 میں دیکھا تھا اور غائب ہونے سے پہلے یہ دو بار نمودار ہوئی۔

سائنسدان اس گرد کی تصاویر کا جائزہ لے رہے ہیں اور ان کے مطابق اس کا دائرہ ایک ہزار کلومیٹر تک تھا اور اتنے وسیع علاقے پر پھیلے گردو غبار کو پہلے نہیں دیکھاگیا۔

جریدے نیچر میں شائع ہونے والے مضمون کے مطابق محققین کے خیال میں یہ بادل کا بڑا ٹکڑا ہو سکتا ہے یا غیر معمولی طور پر روشن ’ارورہ‘ ہے جو سورج سے خارج کردہ ذرات اور کسی سیارے کے مقناطیسی نظام کے ٹکراؤ سے پیدا ہوتا ہے۔

تاہم ابھی تک سائنسدان اس بات کا تعین نہیں کر سکے ہیں کہ یہ گرد کس طرح مریخ کے حصے مارٹن کی اوپری فضا میں نمودار ہوا۔

ماہر فلکیات ڈاکٹر اینٹونیو گارسیا کے مطابق اس معمے نے سائنسدانوں کے لیے مزید سوالات پیدا کیے ہیں۔

دنیا بھر میں ماہرین فلکیات نے اپنی خلائی دوربینوں کا رخ مریخ کی طرف کر رکھا ہے اور یہ منظر مارچ 2012 میں پہلی بار دیکھا گیا تھا۔

ڈیمن پیچ نے اس سے پہلے مریخ کی فضا میں گرد و غبار کی موجودگی کی نشاندہی کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’یہ بڑے علاقے میں پھیلی ہوئی ایک چمکدار گرد تھی اور یہ 10 دن تک رہی۔ ایک ماہ کے بعد یہ دوبارہ نمودار ہوئی اور اس وقت بھی اس کا دائرے اور ٹھہرنے کا دورانیہ پہلے جتنا ہی تھا۔‘

انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میں نے سیارے کی ایک جانب سے اس کو نکلتے ہوئے دیکھا۔ شروع میں مجھے لگا کہ میری دوربین یا کیمرے میں کوئی مسئلہ ہے۔ لیکن جب میں نے دوسری تصاویر دیکھیں تو مجھے اندازہ ہوا کہ یہ حقیقی ہیں اور یہ باعث حیرت تھا۔‘

’یہ بڑے علاقے میں پھیلی ہوئی ایک چمکدار گرد تھی اور یہ 10 دن تک رہی۔ ایک ماہ کے بعد یہ دوبارہ نمودار ہوئی اور اس وقت بھی اس کا دائرے اور ٹھہرنے کا دورانیہ پہلے جتنا ہی تھا۔‘

سائنسدانوں کی ایک بین الاقوامی ٹیم نے اس دریافت کی تصدیق کی ہے لیکن وہ اس کی وجوہات جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یورپی خلائی ادارے کے سائنسدان ڈاکٹر گارسیا مونوز کے مطابق’ ہم جانتے ہیں کہ مریخ پر بادل ہیں لیکن اس حصے میں بادل زیادہ سے زیادہ ایک سو کلومیٹر کی بلندی پر دیکھے گئے ہیں۔ لیکن مریخ پر نئے دریافت کو 200 سو کلومیٹر کی بلندی پر دیکھا گیا ہے اور یہ بالکل مختلف ہے کیونکہ 200 سو کلومیٹر کی بلندی پر ہم نے بادل نہیں دیکھے ہیں۔‘

حقیقت میں اسے ہم نے 20 دن تک دیکھا ہے اور یہ بالکل قابل حیرت ہے۔

ایک اور رائے کے مطابق مریخ کا علاقہ مارٹن زمین پر قطب شمالی سے مماثلت رکھتا ہے جہاں قطبی روشنی دیکھی جا سکتی ہیں۔

تاہم ڈاکٹر گاریسا نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ’مریخ کے اس حصے کو ہم جانتے ہیں اور ہمیں یہاں پہلے ہی ’ارورہ‘ روشنی نظر آنے کی اطلاعات مل چکی ہیں۔ لیکن جس کے بارے میں ہم بات کر رہے ہیں وہ زمین یا مریخ پر نظر آنے والی’قطبی‘ روشنیاں کی بلندی سے بہت زیادہ بلندی پر ہے۔‘

’یہ ’ارورہ‘ سے ایک ہزار گنا زیادہ طاقتور ہے اور اس چیز پر یقین کرنا بہت مشکل ہے کہ مریخ کو اس قدر طاقتور ’ارورہ‘ روشنیاں ہو سکتی ہیں۔‘

اگر ان نظریات پر یقین کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہو گا کہ ہماری مریخ کی اوپری فضا کے بارے میں معلومات غلط ہیں۔

انھوں نے کہا کہ جریدے میں اس بارے میں شائع ہونے سے امید ہے کہ دیگر سائنسدان اس بارے میں کوئی کھوج لگا سکیں اور اگر ایسا نہیں ہوتا تو سائنسدانوں کو اس گردو غبار کے دوبارہ نمودار ہونے کا انتظار کرنا ہو گا۔

اسی بارے میں