پولیو سے بچاؤ کے لیے مکمل نئی مصنوعی ویکسین بنانے کا منصوبہ

تصویر کے کاپی رائٹ LFRYDEPT STRUCTURAL BIOLOGYOXFORD
Image caption پولیو کی موجودہ ویکسین میں جو وائرس استعمال کیا جاتا ہے وہ قدرے کمزور قسم کا ہوتا ہے۔

دنیا سے پولیو کے مکمل خاتمے کی غرض سے بین الاقوامی سائنسدانوں کی ایک ٹیم کو ایک مکمل نئی مصنوعی ویکسین بنانے کا منصوبے سونپ دیا گیا ہے۔

پولیو کی بیماری اب دنیا سے مکمل ختم کیے جانے کے قریب ہے اور ہر سال دنیا بھر میں صرف چند سو نئے کیسز سامنے آ رہے ہیں۔

اس منصوبے کے لیے مالی اعانت فراہم کرنے والوں کو امید ہے کہ نئی مصنوعی ویکسین موجودہ ویکسین میں پائی جانی والی کمی کو دور کرنے میں کامیاب ہو جائے گی جس کے بعد اس مرض کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو جائے گا۔

عالمی ادارۂ صحت اور مائیکروسافٹ کے مالک کی فلاحی تنظیم ’بِل اینڈ ملنڈا گیٹس فاؤنڈیشن‘ اس منصوبے کے لیے چھ لاکھ 74 ہزار ڈالر کی رقم فراہم کر رہے ہیں۔ اس منصوبے کا باقاعدہ اعلان سائنس کی ترقی کی تنظیم ’امیریکن ایسوسی ایشن فار ایڈوانسمنٹ آف سائنس‘ کے سالانہ اجلاس کے موقع پر کیا گیا جو ریاست کیلیفورنیا کے شہر ’سین ہوزے‘ میں منعقد ہوا۔

اس منصوبے پر امریکہ اور برطانیہ کے سائنسدانوں کی ایک مشترکہ ٹیم کام کرے گی۔

جینوم کے بغیر ویکسین

انسان پولیو کے خلاف جنگ جیتنے کے بہت قریب پہنچ چکا ہے۔ ایک وہ وقت تھا جب ہر سال ہزارہا بچے اور بڑے لوگ پولیو کا شکار ہو رہے تھے، لیکن گذشتہ برس دنیا بھر میں پولیو کے صرف 350 نئے کیس سامنے آئے جن کی اکثریت پاکستان سے تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گذشتہ برس دنیا بھر میں پولیو کے صرف 350 نئے کیس سامنے آئے جن کی اکثریت پاکستان سے تھی۔

لیکن لگتا ہے کہ پولیو کے خلاف ہمارے سفر کا آخری ایک میل بڑا صبر آزما اور پریشان کن ثابت ہو رہا ہے۔اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ پولیو کی موجودہ ویکسین میں جو وائرس استعمال کیا جاتا ہے وہ قدرے کمزور قسم کا ہوتا ہے۔

وائرس کی اس کمزوری کی وجہ سے ہوتا یہ کہ کچھ لوگوں کی انتڑیوں میں انفیکشن ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے ان کے جسم میں ویکسین نے جس وائرس کو جگایا (ایکٹیویٹ کیا) ہوتا ہے وہ جسم سے باہر نکل کر ارد گرد کے ان لوگوں کو پولیو کر سکتا ہے جنہوں نے بچاؤ کے قطرے نہیں پیے ہوتے۔

تاہم اگر وائرس کے اندر کوئی جینیاتی مشینری نہ ہو تو بیماری کے پھیلنے کا یہ راستہ بند ہو سکتا ہے۔ نئے منصوبے کے تحت عالمی ادارۂ صحت اور بِل گیٹس فاؤنڈیشن کے سائسندانوں کی کوشش یہی ہوگی کہ وہ کوئی ایسا چیز بنائیں جو موجودہ ویکسین کی اس کمی کو پورا کر دے۔

منصوبے کی ٹیم سے منسلک برطانوی سائنسدان ڈاکٹر ڈیو سٹوئرٹ کا کہنا ہے مصنوعی ویکسین کے پیچھے خیال یہ ہے کہ اس میں کوئی جینیاتی مادہ (جینوم) نہیں ہوگا، یعنی یہ ویکسین وائرس کے بغیر ہو گی۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ’مجوزہ ویکسین ایک کیمیائی مادے کی شکل میں ہوگی، ایک پیچیدہ کیمیائی مادہ، جو ہو گا تو ایک وائرس جیسا ہی، لیکن اس میں خود کو تقسیم کرنے کی صلاحیت نہیں ہوگی۔‘

ماہرین کی ٹیم کا کہنا ہے کہ وہ مصنوعی ویکسین کے حوالے سے پُر امید ہیں کیونکہ دودھ دینے والے جانوروں کی بیماری ’فُٹ اینڈ ماؤتھ ڈیزیز‘ کی ویکسین بنانے میں ایسی ہی ترکیب استعمال کی جا چکی ہے۔ اس بنیاد پر ٹیم پُرامید ہے کہ پولیو کی مصنوعی ویکسین کے حوالے سے سائنسدان آدھا کام کر چکے ہیں۔ .

اسی بارے میں