’آبی حیات کا جسم وقت کے ساتھ ساتھ بڑا ہوا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption بلیو ویل 50 کروڑ سال قبل بسنے والے سب سے بڑے آبی جانور سے ایک لاکھ گنا بڑی ہے

ایک حالیہ تحقیق میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ پانی میں رہنے والے جانوروں کا جسم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑا ہوتا گیا۔

جنرل سائنس نامی جریدے میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جانوروں کے جسم کا پھیلاؤ اتفاقیہ نہیں ہوا بلکہ ایسا اس وقت سے ہو رہا ہے جب زمین پر ابتدائی طور پر جانوروں کے ڈھانچوں کی بڑے پیمانے پر دریافت ہوئی۔

حالیہ معلومات آبی زندگی کے حال اور ماضی سے متعلق بڑے پیمانے پر کیے جانے والے ایک سروے سے حاصل ہوئی ہیں۔

اگرچہ جانوروں کے جسم کا حجم بڑھنے کے بارے میں یہ وضاحت نہیں کی جا سکتی کہ کیا ایسا بے ترتیب اور فطری طور پر ہوا۔

گذشتہ 50 کروڑ 42 لاکھ سال میں آبی جانوروں کے جسم کی اوسط ساخت 150 فیصد تک بدلی ہے۔

آج ہمارے سامنے موجود نیلی ویل کی جسامت کیمبریئن( ڈھانچوں کی پہلی بار دریافت کے وقت سے) کے دور کے سب سے بڑے جانور سے ایک لاکھ گنا زیادہ بڑی ہے۔

یہ خیال کیا جاتا ہے کہ شاید قدرتی طور پر نئے جانوروں کی نسبت ان جانوروں کا سلسلہ محفوظ رہتا ہے جن کا وزن بتدریج بڑھتا جاتا ہے۔

اسے ’کوپس کا اصول‘ کہتے ہیں جسے امریکی آثارِ قدیمہ کے ماہر ایڈورڈ ڈرنکر کوپ نے متعارف کروایا۔

19 ویں صدی میں قدیم حیات کا مطالعہ کرنے والے ماہرین نے یہ نشاندہی کی کہ جدید ممالیہ کی آباو اجداد قدرے چھوٹے تھے جیسے 5 کروڑ سال قبل گھوڑے کی جسامت کتے جتنی تھی۔

تاہم تمام جانوروں میں ایسا نہیں تھا بہت سے ایسے گروہ ہیں جو اپنے معدوم ہونے تک بڑے تھے جیسے کہ ڈائناسور مگر پرندے اپنے ارتقا کے دوران ضرورت کے مطابق چھوٹے ہوتے چلے گئے اور ان کا وزن کم ہوا۔

کیلی فورنیا کی سٹین فورڈ یونیورسٹی کے ڈاکٹر نوئل ہیم ’کوپس‘ کو مانتے ہیں۔ انھوں نے اپنے ساتھیوں، یونیورسٹی اور ہائی سکول کے طالب علموں کی مدد سے جانوروں کی جسامت کا سائنسی بنیادوں پر ڈیٹا تیار کیا۔

بی بی سی سے گفتگو میں انھوں نے بتایا کہ پچھے پانچ سال سےاس کام میں ہمارے ساتھ ہائی سکول کے کم ازکم 50 طالب علم حصہ لے رہے ہیں۔

اس تحقیقاتی ٹیم نے اب تک 17000 سے زائد اقسام کے جانوروں کے گروہوں کی معلومات اکھٹی کی ہیں اور بتایا جاتا ہے کہ یہ ماضی میں بسنے والے 60 فیصد جانوروں کی معلومات ہیں۔

ڈاکٹر ہیمن کے مطابق سمندر کی کیمیائی حالت بھی آبی حیات پر اہم اثر ڈالتی ہے جس میں آکسیجن کا بڑھنا وغیرہ شامل ہے۔

یونیورٹسی آف لیور پول میں ارتقائی علوم میں فزیالوجسٹ ڈاکٹر مائکل برینبرنک کے خیال میں امریکی ٹیم نے ایک غیر معمولی ڈیٹا تیار کیا ہے تاہم وہ تجویز دیتے ہیں کہ حاصل معلومات سے احتیاط کے ساتھ نتائج اخذ کیے جائیں۔

بی بی سی سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ یہ پانی میں ممالیہ جانوروں کی واپسی تھی جس کے بعد بلآخر آج ہمیں سمندر میں ویل دکھائی دیتی ہے۔

’آپ اس ڈیٹا کو دیکھ سکتے یں اس میں جسم بڑھنے کا رجحان نظر آتا ہے، لیکن اصل موڑ تب آیا جب ہوا میں سانس لینے والوں کی سمندر میں واپسی گئی۔‘

وہ مزید بتاتے ہیں کہ ہوا میں سانس لینے سے زیادہ مقدار میں آکسیجن جانوروں کی بافتوں میں داخل ہوتی ہے اور پھر وہ لہروں کے اندر بڑے جسم کے ساتھ رہنے کے قابل ہوتے ہیں۔

اسی بارے میں