دوبارہ استعمال نہ ہونے والی سمارٹ سرنج کے استعمال پر زور

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سمارٹ سرنجز کا دوبارہ استعمال ناممکن ہوگا۔

عالمی ادارۂ صحت نے سنہ 2020 تک ایسی سمارٹ سرنج متعارف کروانے پر زور دیا ہے جس کا دوبارہ استعمال کسی صورت ممکن نہ ہو۔

استعمال شدہ سرنجز کا استعمال ہر سال 20 لاکھ سے زائد افراد میں ایچ آئی وی اور ہیپاٹائٹس سمیت دیگر بیماریاں پھیلانے کا باعث بنتا ہے۔

یہ نئی سرنجیں مہنگی ہوں گی لیکن عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ ان کا استعمال بیماری کے علاج سے سستا ہوگا۔

دنیا بھر میں ہر سال 16 ارب سے زیادہ انجکشن لگائے جاتے ہیں اور فی الحال اس میں استعمال کی جانے والی عام سرنجیں بار بار استعمال کی جا سکتی ہیں۔

لیکن سمارٹ سرنجز کے استعمال کے بعد ان کی سوئی ٹوٹ جانے کے بعد یا دیگر طریقوں سے اس کا دوبارہ استعمال ناممکن ہوگا۔

عالمی ادارہ صحت کی انجیکشن سیفٹی ٹیم کی ڈاکٹر سلمٰی خامسی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’امید کی جا سکتی ہے کہ اس سے ہر سال ہیپاٹائٹس بی کے 17 لاکھ، ہیپاٹائٹس سی کے 300,000 اور ایچ آئی وی کے 25،000 نئے کیسز اور ایسی بیماریاں جن کے اعداد و شمار کے بارے میں علم نہیں، جیسا کہ ایبولا اور ماربرگ، سے بچا جا سکے گا۔‘

عام سرنج کی قیمت دو سے چار سینٹس ہے اور سمارٹ سرنج کی قیمت چار سے چھ سینٹس کے درمیان ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ WHO
Image caption ہر سال تقریبا ٢٠ لاکھ افراد استعمال شدہ سرنج کے دوبارہ استعمال سے ایچ آئی وی، ہیپاٹائٹس اور دیگر بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں

عالمی ادارۂ صحت اسے ’کم اضافہ‘ کے طور پر بیان کرتا ہے۔ تاہم جب سرنجیں 16 ارب کی تعداد میں درکار ہوں تو ایک سوئی کی قیمت میں معمولی اضافہ بہت بلند ہو جاتا ہے ۔

ڈاکٹر خامسی کہتی ہیں: ’انجیکشن سیفٹی میرے خیال میں تمام بیماریوں سے بچنے کا سب سے مناسب خرچ ذریعہ ہے۔

’اگر ہم سب سے مہنگی سرنج کا موازنہ ایچ آئی وی یا ہیپاٹائٹس سی کے علاج سے کریں، تو ان میں کوئی مقابلہ نہیں ہے۔‘

عالمی ادارۂ صحت غلاف والی سوئیوں کے بارے میں بھی غور کر رہا ہے جو ڈاکٹروں کی انگلیوں میں غلطی سے سوراخ کرنے سے بچا سکیں گی۔

مغربی افریقہ میں پھونٹے والی ایبولا کی وبا کے دنوں ایسا بہت بار ہوا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ THINKSTOCK
Image caption ’اگر ہم سب سے مہنگی سرنج کا موازنہ ایچ آئی وی یا ہیپاٹائٹس سی کے علاج سے کریں، تو ان میں کوئی مقابلہ نہیں ہے۔‘

لیکن وہ سرنج کی قیمت تین گنا کر سکتے ہیں اور عالمی ادارۂ صحت کا کہنا ہے کہ انہیں ’بتدریج‘ متعارف کروانے کی ضرورت ہے۔

عالمی ادارۂ صحت نے محفوظ سوئیوں کی پیداوار بڑھانے اور اس پر آنے والی لاگت میں کمی کرنے کی راہ نکالنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔

استعمال شدہ سرنج کے دوبارہ استعمال کو روکنے سے منسلک مہم ’سیف پوائنٹ‘ کے سربراہ مارک کوسکا نے بی بی سی کو بتایا ’ایسا بالکل، بالکل ممکن ہے۔‘

’ہم حفاظتی ٹیکوں میں ایسا کر چکے ہیں، جو ترقی پذیر ممالک میں دیے جانے والے انجیکشنز کا 10 فیصد سے کم حصہ ہیں، اور اس کے بہترین تنائج سامنے آئے ہیں

’اب ہمارا ہدف 90 فیصد کا ہے، جسے ہم شفا بخش انجیکشنز کہتے ہیں‘

لیکن یہ اقدام عام سرنج کو ختم کرنے کے لیے نہیں ہے۔

اس کا استعمال منشیات کے عادی افراد کی جانب سے ایک ہی سرنج کے استعمال اور اس کے ساتھ ساتھ علاج معالجے کے دوران مختلف ادویات کو انجیکشن لگانے سے پہلے مکس کرنے کے لیے جاری رہے گا۔

اسی بارے میں