کیا ایچ آئی وی کے علاج میں انقلابی تبدیلی آ گئی ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

ان دنوں بہت ہی پرجوش باتیں جاری ہیں کہ ایچ آئی وی کی وبا کو کنٹرول کرنے میں معاملات ایک بڑی تبدیلی لانے والے مرحلے تک پہنچ گئے ہیں۔

یہ کوئی علاج یا ویکسین نہیں مگر اس بیماری کے وائرس کو منتقل کرنے سے روکنے کا انتہائی موثر طریقہ ہے۔

اس کے پیچھے خیال یہ ہے کہ ایچ آئی وی کی ادویات ہم جنس پرست مردوں کو دی جائیں جو بغیر تحفظ کے جنسی تعلق قائم کرتے ہیں اور انہیں ابھی تک وائرس نے متاثر یا انفیکٹ نہیں کیا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ دوا جسم میں موجود ہو گی اور وائرس کے آنے کی منتظر ہو گی کہ جیسے ہی وہ جسم میں داخل ہو وہ اس کا خاتمہ کر سکے۔

یہ طریقۂ کار اب تک اس شعبے میں کی جانے والی بڑی دریافتوں میں سے ایک پر انحصار کرتا ہے جسے اینٹی ریٹروویل ادویات یا آر این اے وائرس کے ایک وسیع گروہ کی انسدادی ادویات کہا جاتا ہے۔

ایچ آئی وی کا انفیکشن جب 1980 میں دریافت ہوا تو یہ موت کا پروانہ تھا جو کہ افریقہ میں اس سے قبل دہائیوں تک بغیر سامنے آیا اموات کا ذمہ دار رہا تھا۔

ہر مریض اس وائرس کے لگنے کے بعد مرض کا شکار ہوتے ہوتے ’ایکوائرڈ امیونوڈو ایفیشنسی سینڈروم‘ یا ایڈز کی جانب بڑھتا تھا جس کے بعد موت لازم ہو جاتی تھی۔

مگر اگر آپ 1990 کے اواخر میں متعارف کروئی جانے والی ادویات کے اثرات کا جائزہ لیں تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ ایڈز کے نتیجے میں اموات بڑے پیمانے پر کم ہوئیں۔

ایچ آئی وی انفیکشن اب ایک یقینی قاتل سے زندگی بھر کا انفیکشن بن چکا ہے کم از کم مغرب میں ایسا ہے جہاں ادویات دستیاب ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس طریقۂ علاج کے بارے میں کا جا رہا ہے کہ یہ کوئی ویکسین نہیں ہے بلکہ علاج کا ایک مختلف طریقہ ہے

ان ادویات نے در حقیقت ایک ’انقلابی تبدیلی‘ کے مرحلے پر لا کر کھڑا کیا ہے اور ایسے افراد جنہیں یہ انفیکشن ہو اُن کی تعداد میں اضافہ اپنی ذات میں ایک مسئلہ ہے جس سے اس وائرس کے پھیلاؤ کا خطرہ ہمیشہ سے موجود رہتا ہے۔

تصور کریں کہ ہر آٹھ میں سے ایک جنسی ساتھی ایچ آئی وی کے وائرس کا شکار ہو یہ لندن میں ہم جنس پرست مردوں کو درپیش مسائل میں سے ایک ہیں اور باقی برطانیہ میں یہ عدد 26 میں سے ایک ہے۔

اسی وجہ سے ایک مرد نے مجھے بتایا کہ اسے لندن میں ایچ آئی وی کا شکار ہونے کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے اور اس سے اس کے تعلقات بنانے کے عمل پر شدید برا اثر پڑا ہے۔

بہت سے لوگ کہیں گے کنڈوم کیوں نہیں استمعال کرتے جو کہ ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کے روکنے کے موثر ہتھیار ہیں اور ہر جنسی صحت کے ماہر کی جانب سے تجویز کیے جاتے ہیں۔

مگر آپ کو پتا ہے کہ بہت سے صحت کے پیغامات جیسا کہ سگریٹ نوشی نہ کریں، ورزش زیادہ کریں، شارب کم پئیں نظر انداز کیے جاتے ہیں ایسے ہی کنڈوم کے استعمال کو بھی نظر انداز کیا جاتا ہے جس میں ایک جائزے سے پتا چلا کہ صرف 55 فیصد مردوں نے کسی دوسرے مرد کے ساتھ آخری بار جنسی تعلقات قائم کرتے ہوئے کنڈوم کا استعمال کیا تھا۔

کچھ ایسے ہیں جو اچھے رشتوں میں بندھے ہیں جبکہ کچہ ایسے ہیں جو بہت شی مشکلات کا شکار ہیں۔

برطانیہ میں ہم جنس پرست افراد ایڈز کا شکار ہونے والے گروہ میں سب سے بڑا گروہ ہے جن میں ہر سال 2500 افراد اس کا شکار ہوتے رہے ہیں گذشتہ ایک دہائی کے دوران اور انہیں سب سے زیادہ خطرہ درپیش ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Science Photo Library
Image caption ایڈز اور ایچ آئی وی کی ویکسین اور ادویات کے آنے سے اب یہ ایک ایسا مرض بن گئی ہے جو ساری عمر کا انفیکشن تو ہے مگر موت کا فوری پروانہ نہیں

برطانیہ کے میڈیکل ریسرچ کونسل اور پبلک ہیلتھ انگلینڈ کے تجربات نے ظاہر کیا کہ ایچ آئی وی کا شکار ہونے والے مردوں کو ادویات کی فراہمی کے نتیجے میں 86 فیصد انفیکشن میں کمی واقع ہوئی ہے۔

اس بات میں کسی بات کا شک نہیں کہ یہ بہت بڑی تبدیلی ہے اور اگر ہم یہ بات ایک دوا کے حوالے سے کرتے جو 86 فیصد کینسرز کا خاتمہ کرے تو ہم اسے ایک معجزاتی دوا کہتے۔

اس تحقیق نے ظاہر کیا ہے کہ ایچ آئی وی کو ہر 13ویں مرد کے لیے ختم کیا جا سکتا ہے اگر اسے ایک سال تک زیرِ علاج رکھا جائے۔

اس تحقیقاتی ٹیم کے ایک رکن نے اس کی ایک انتہا درجے کی مثال دی یہ کہتے ہوئے کہا کہ ’اگر یہ دوا تمام مردوں کو دی جائے اور تمام اس کے استمال کا اہتمام کریں تو ہم اس وبا کو ختم کر سکتے ہیں۔‘

مگر ان ادویات کو کبھی بھی اس پیمانے پر کبھی بھی تجویز نہیں کیا جائے گا مگر ان کے استمال کے نتیجے میں یہ امکان موجود ہے کہ سینکڑوں نئے انفیکشن کو روکا جا سکتا ہے جہاں کوئی اور دوا کام نہیں کرتی اسی لیے اسے ایک گیم چینجر یا حالت کا پانسہ پلٹنے والی دوا کہا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں