پاکستان میں سائبر جرائم کے مجوزہ قوانین پر ابہام

Image caption اسلام آباد میں بائٹس فار آل کی جانب سے سائبر سپیس کانفرنس کا انعقاد

پاکستان میں سائبر جرائم کے لیے کوئی قانون نہیں ہے۔ اسی خلاء کو ُپر کرنے کے لیے مختلف مجوزہ بل حکومت، پارلیمان اور سول سوسائٹی میں گردش کر رہے ہیں لیکن ان کی تعداد اور مقاصد کے بارے میں ابہام بدستور موجود ہے۔

یہی ابہامی کیفیت اسلام آباد میں جمعے ختم ہونے والی دو روزہ سائبر کانفرنس کے پہلے سیشن میں دیکھی گئی۔

بائٹس فار آل نامی ایک غیر سرکاری تنظیم نے اس کانفرنس کا انعقاد ایک مقامی ہوٹل میں کیا تھا۔ ملک میں کبھی کبھار آرڈیننس کے ذریعے وقتی افاقے کی بھی کوششیں کی گئیں لیکن اب بھی صورتحال جوں کی توں برقرار ہے۔

یہ صورتحال دن بدن مزید تشویش ناک ہوتی جا رہی ہے کیونکہ انٹرنیٹ کا استعمال پاکستان میں تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ایسے میں اس کے غیر ضروری استعمال کو روکنے کی اشد ضرورت ہے۔

اس موضوع پر ایک ایسے وقت میں بحث ہو رہی تھی جب ایک روز قبل ڈاکٹر عبدالقیوم سومرو کی صدارت میں سینیٹ کی ایک ذیلی کمیٹی نے سائبر جرائم سے متعلق پروٹیکشن آف سائبر کرائم بل 2014 کی منظوری دے دی ہے۔

یہ بل پیپلز پارٹی کے سینیٹر کریم احمد خواجہ نے پیش کیا تھا۔ اس کے علاوہ مسلم لیگ قاف کے سینیٹر مشاہد حسین سید نے بھی سائبر بل پیش کیا ہوا ہے لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کا سائبر جرائم سے کوئی تعلق نہیں۔ تیسرا بل وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جانب سے تھا ۔ وزیراعظم کی منظوری کے بعد ایک بل بھی قومی اسمبلی میں زیر غور ہے۔

سائبر جرائم سے متعلق قانون سازی پر بات کرتے ہوئے یورپین یونیورسٹی میں سینٹر فار انٹرنیٹ اینڈ ہومن رائٹس کے ڈائریکٹر بن ویگنر نے کہا کہ چونکہ دنیا بھر میں سائبر کرائم سے متعلق کہیں بھی کوئی اچھی مثال نہیں ہے لہذٰا پاکستان کو اس بابت ناامید نہیں ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب تک کی اگرچہ سست لیکن جتنی بھی پیش رفت ہے قابل ستائش ہے اور پاکستان اس سلسلے میں دنیا کی قیادت بھی کر سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سائبر بل کے مختلف مسودے گردش میں ہیں اور ان میں سے اچھی باتیں باآسانی یکجا کی جا سکتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ THINKSTOCK
Image caption سائبر کرائم سے نمٹنے کے لیے ایک بِل پاکستان کی قومی اسمبلی میں زیرِ عور ہے

بیرسٹر زاہد جمیل نے سول سوسائٹی کے مرتب کردہ ایک بل کے چیدہ چیدہ نکات بھی کانفرنس میں موجود شرکاء کے سامنے رکھے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اب تک اس موضوع پر سفارشات کا اس خطے کے دیگر ممالک مثلاً افغانستان اور سری لنکا فائدہ اٹھا کر آگے بڑھ رہے ہیں لیکن پاکستان اس بارے میں کیا کر رہا ہے کچھ معلوم نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ زیرِ غور مسودوں میں اس قانون کے غلط استعمال سے متعلق حفاظتی پہلو نکال دیے گئے ہیں۔ ان کے خیال میں اس سے سائبر جرائم میں ملوث افراد کو خوش ہو جانا چاہیے۔

مصنفہ اور حقوقِ انسانی کی کارکن گل بخاری نے زیر غور سول سوسائٹی کے بل سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں بعض خفیہ ایجنسیاں کسی قانون کے تحت نہیں آتیں اور حکومت انہیں سے سائبر جرائم کی تحقیق میں مدد کے لیے رجوع کر سکتی ہے جوکہ درست نہیں اور نہ ہی یہ بل تشدد کے ذریعے تحقیقات کا راستہ روکتا ہے۔

گل بخاری کا کہنا تھا کہ اس میں تحقیقاتی افسر کی جانب سے قانون کے غلط استعمال کے الزام میں کوئی سزا تجویز نہیں کی گئی ہے۔ مجوزہ قانون کے سیکشن 13 کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ خواتین کے حقوق کا خصوصی تحفظ یقینی بنانے کی کوشش ہے لیکن اس میں خواجہ سراوں کو باہر رکھا گیا ہے۔

ماہرین کے پینل میں تحریک انصاف کے رکنِ قومی اسمبلی ڈاکٹر عارف علوی نے بات کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی کمیٹیاں محض ایک بل پر غور نہیں کرتیں اور دیگر مسودوں سے بھی استفادہ کرتے ہوئے ان کی اچھی باتیں حتمی بل میں شامل کر سکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو جواز بنا کر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو غیرمعمولی اختیارات نہیں دینے چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس کو بھی ان کے اختیارات کے متعلق بلیک اینڈ وائٹ میں بتایا جانا چاہیے کیونکہ ابہام قانون کے غلط استعمال کی وجہ بن سکتا ہے۔

وہ قومی اسمبلی میں پہلے رکن ہیں جنہوں نے اجلاس میں اپنا لیپ ٹاپ لیجانے پر اصرار کیا اور بلآخر انہیں اس کی اجازت مل گئی۔

سیشن کے اختتام پر زاہد جمیل کی یہ بات کہ جس مسودے پر وہ بات کر رہے ہیں وہ ختم ہو چکا ہے۔ عارف علوی نے کہا کہ اگر انھیں یہ معلوم ہوتا تو وہ اس پر تین روز صرف نہ کرتے۔

اسی بارے میں